The biography of Prophet Muhammad – Month 1

The biography of Prophet Muhammad – Month 1

1/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

عرب کے قبائل میں سے مشہور قبیلہ ہے قریش۔ حضرت عبدالمطلب قبیلۂ قریش کی معزز شخصیت اور مقبول رہنما تھے . حضرت عبداللہ ان کے تیرہ بیٹوں میں سے ایک ہیں۔ ایک حسین خوش اخلاق اورسلیم الطبع نوجوان۔ جو ہر وقت اپنے والد ماجد کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ مکہ والوں کے لیےاسی طرح عزیز تھے جس طرح اپنے خاندان والوں کے لیے۔معاشرے میں پھیلی ہوئی غیر ضروری رسم و رواج سے حضرت عبداللہ ہمیشہ گوشہ نشین رہے۔ توہمات اور بےہودگی میں کبھی ملوث نہیں ہوے۔
مکہ کی خواتین حضرتِ عبداللہ کو بیحد پسند کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ بعض خواتیں نے آپ سے نکاح کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ کچھ امیر عورتوں نے دلفريب وعدوں سے اپنی خواہشات کا اظہار کیا۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا. حضرتِ عبداللہ راضی نہیں ہوئے۔
روایتی طور پر جب عبداللہ شادی کی عمر کو پہنچ گیے تو متعدد جگہوں سے شادی کے پیغامات آنے لگے۔ اس درمیان ایک بہترین رشتہ حضرت آمنہ، وہب کی لاڈلی دختر کے ساتھ آیا جس پر آپکے گھر والے بھی بہت خوش ہوئے۔ ایک خوبرو لڑکی جو عبداللہ سے ہر اعتبار سے لائقہ تھی۔ پہلی نظر میں ہی وہ ایک دوسرے سے راضی ہوئے۔
اب شادى كا وقت آيا. ایک شاندار شادی۔ مروّج معمولات سے مختلف۔ کوئی شور پکار نہیں، کوئی ناچ گانا نہیں۔ دلہا اور دلہن کے خاندانوں کی مشہور شخصیات جمع ہوئیں اور باہمی احترام کا اظہار کیا۔ نکاح نامہ مکمل ہو گیا۔
حضرتِ عبداللہ اور آمنہ جوڑے کی ازدواجی زندگی مکہ والوں کے لیے باعث مسرت تھی۔ زوجین کے اتحاد نے سبھی کو بھی متعجب کیا۔ دونوں کی زندگی میں اب خوشخبری آئی۔ آمنہ حاملہ ہو گئی۔
تب تک تاجرپیشہ لوگوں کے قافلہ کا مکہ سے روانہ ہونے کا وقت ہو چکا تھا۔ عبداللہ اپنی اہلیہ کو اکیلا چھوڑ کر تجارتی قافلے میں شامل ہو گئے ۔
اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہمیشہ مقرر ہوتے ہیں۔ انھہیں کوئی نہیں بدل سکتا. اور ہر فیصلے میں حاکم (خالق) کی کوئی نہ کوئی حکمت اور مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔
جی ہاں، واپسی میں عبداللہ مدینہ منورہ (اس وقت کا یثرب) میں بیمار ہو گئے۔ اور اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔
اپنے شوہر کا المناک انتقال حضرت سیدہ آمنہ کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ وہ اداس ہو گئی۔ لیکن وہ خُداوند کے فیصلے پر ثابت قدم رہی۔ اور وہ اپنے پیارے شوہر کی طرف سے دیے گئے تحفے (حمل) کا خیال رکھتی رہی۔
سن ٥٧١ ع ، ٢٠ اپریل (١٢ ربیع الاول) بروز پیر صبح صادق کے وقت سیدہ آمنہ نے ایک حسین و جمیل بچہ کو جنم دیا۔ جی ہاں، سید البشر ، رحمۃ للعالمیں حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی۔ عالمِ دنیا میں سید العالمین تشریف لائے ۔

2/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

مکہ قدیم زمانے سے ہی ایک شہری علاقہ رہا ہے۔ قصبے میں پیدا ہونے والے نو مولود بچوں کو دودھ پلانے اور ابتدائی پرورش کے لیے گاؤں بھیجا جاتا تھا۔ اس دور کا یہی رواج تھا۔
اس سے نونہال بچوں کوتازہ ہوا حاصل کرنے اور متعدی بیماریوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ صحرائی زندگی بچوں کو نیکی اور اچھائی کا موقع فراہم کرتی ہے۔
کچھ خاندان بچوں کی صحیح پرورش میں ماہر تھے۔ ان میں ‘بنو سعد’ قبیلہ مشہور تھا۔جو ہوازن قبیلہ کا حصہ تھا جو مکہ کے جنوب مشرقی حصے میں رہتا تھا۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی بھی خواہش تھی کہ قبیلہ بنو سعد کی کوئی عورت اپنے بیٹے کو دودھ پلائے۔ اس لیے وہ ایسی رضاعی عورت کا انتظار کر رہی تھی۔ ابھی دیر نہیں ہوئی. رضاعی عورتیں اپنے گاؤں سے بچوں کی تلاش میں آنے لگیں۔ ان میں ابو ذؤيب کی بیٹی حلیمہ سعدیہ بھی تھیں۔ اور ان کے ساتھ شوہر حارث اور دُودھ پیتا بچّہ عبداللہ (ضمرہ) بھی تھے۔
حلیمہ کی یادیں تاریخ میں شاندار طریقے سےلکھی ہوئی ہیں۔جیساکہ وہ خود بیان کرتی ہیں۔ اس سال عرب میں شدید قحط پڑا ۔ ہم بھی خشکسالی کا شکار تھے۔ اس لیے میں جلد از جلد مکہ جانے کا سوچ رہی تھی۔ دودھ پلانے کے لیے کسی بچے کو گود لیں۔ تاکہ اس کے ذریعے زندگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ ہمارے پاس ایک بھورے رنگ کی گدھی اور دودھ دینے والی اونٹنی تھی۔ اور میرا بچہ شدت سے رو رہا تھا کیونکہ میری چھاتی میں دودھ نہیں تھا۔ بہر حال ہم نے بھی مکہ کی طرف نکلنے کا ارادہ کیا ۔ اور اپنی جیسی خواتیں کے قافلے میں روانہ ہوگئے۔ میری گدھی کمزوری کے سبب نہایت سُست رفتاری سے سفر طے کر رہی تھی، جس کی بنا پر قافلے کی سب خواتین پریشان تھیں۔ ہم نے چاہا کاش ایک بارش ہو جاتی۔ لیکن مکہ پہونچنے تک بارش نہیں ہوئی۔
عورتیں مکہ پہنچ کر بچوں کو تلاش کرنے لگیں. اور وہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر بھی گئیں. لیکن انھوں نے جب بچّے کے یتیم ہونے کا سُنا، تو انعامات نہ ملنے کے اندیشے کے پیشِ نظر بچّہ لینے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ انہیں بچے کے والد کی طرف سے تحائف کی توقع رہتی ہے۔ دودھ پلانا براہ راست ادا شدہ کام نہیں تھا۔ بلکہ، یہ طویل مدتی تعلقات اور مستقبل میں حاصل ہونے والے فوائد سے وابستہ تھا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ایک دستور بھی تھا۔ دیہی خاندان اور شہری خاندان کے درمیان تعلقات کے کئی پہلو ہوتے تھے۔ اس سے باہمی ضرورتیں پوری ہوتی تھی۔
دوسری سب عورتیں مالدار گھرانوں سے بچے لیکر واپس جانے لگیں۔ مجھے خالی ہاتھ جانا مناسب نہیں لگا. میں بھی اس يتیم بچے کو دیکھنے چلی۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر پہنچی۔ اور پھر اپنے شوہر سے مشورہ کرکے اس یتیم بچّے کو ہاتھوں میں لے لیا۔
جب میں نے آمنہ کے لالؐ کو گود میں لیا تو دیکھا کہ میری سوکھی چھاتیاں دُودھ سے بَھر چُکی ہیں۔ چنانچہ میرے بچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی شکم سیر ہو کر دُودھ پیا۔ کیا معجزہ ہے! ہماری اونٹنی کے سوکھے تَھن بھی دُودھ سے لبریز ہو چکے ہیں۔ اور کمزور گدھی تندرست اور مظبوط ہو گئی۔ میرے شوہر کہنے لگے کہ یہ بچہ بہت بابرکت ہے۔ ‘ہاں، میری بھی یہی خواہش تھی’: میں نے جواب دیا۔
ہم نے واپس گاؤں کی طرف رخ کیا. میں اور نیا بچہ گدھی پر سوار ہو گئے۔ گدھی نے اپنی تیز رفتاری سے سب کو حیران کر دیا۔ دوسروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ انہوں نے ہمیں انتظار کرنے کو کہا۔ ‘یہ ایک معجزہ ہے، حلیمہ بہت خوش قسمت ہے’: دوستوں نے کہا.
جی ہاں، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ سے گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔۔ ۔

3/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

حضرت حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں کہ جب ہم بنو سعد کے گاؤں پہنچے۔ چاروں طرف خوشی ہی خوشی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سب کے لیے رحمتیں لے کر آئی۔ گاؤں کی تصویر بدل گئی ہے۔ یہ خشک زمین اب سر سبز ہو چکی ہے۔ اب جانوروں کے لیے کافی چارا بھی موجود ہے۔ ان کے بھی تھن دودھ سے بھر گئے۔ یہاں تک کہ جب گاؤں کے دوسرے جانوروں کا دودھ خشک ہو جاتا تھا، تب بھی ہمارے جانوروں کے تھن دودھ سے بھرے رہتے تھے۔ آخر کار گھر کے سبھی لوگ اپنے جانوروں کو میرے جانوروں کے ساتھ چرانے لگے۔ خدا کی قدرت سے ان جانوروں کے بھی دودھ اتر آیا۔ دو سال تک مَیں نے آنحضرتﷺ کو دُودھ پلایا۔ آپﷺ ایک غیر معمولی انداز میں بڑے ہوتے گئے۔ اب بچے کو واپس والدہ کے پاس لے جانے کا وقت آگیا۔ لیکن اس مبارک بچے کو چھوڑنے کا من نہیں کررہا ہے۔ کیونکہ بچے کی آمد سے ہمیں جو خوشی اور نعمت ملی وہ ناقابل بیان ہے۔ اُس زمانے میں مکّہ طاعون بیماری کی زَد میں تھا، لہٰذا ہم نے حضرت آمنہ سے بے حد اصرار کر کے بچے کو دوبارہ اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت لے لی۔ ہم خوشی خوشی گھر لوٹے۔ میری بیٹی شیما سب سے خوش تھی۔ کیونکہ وہ بچے کو اپنی بانہوں میں لے کر گھومتی تھی اورنغمات سناتی تھی۔ یوں کئی مہینے گزر گئے۔ یہ ایک دن کا واقعہ ہے۔ دونوں بچے گھر کے قریب ایک کھیت میں کھیل رہے تھے۔ اچانک بیٹا ضمرہ دوڑتا ہوا آیا۔ کانپتے ہوئے کہنے لگا۔ ہمارے قریشی بھائی کے پاس دو لوگ آئے اور انہیں اٹھا کر لے گئے۔ وہ سفید لباس پہنے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے آپﷺ کو لِٹایا، سینہ چاک کر کے کچھ باہر نکال رہے ہیں۔ میں اور میرے شوہر گھبرا گئے۔ اور تیزی سے دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔ تو دیکھا کہ آپﷺ صحیح سلامت بیٹھے ہیں، لیکن آپﷺ کا رنگ اُترا ہوا تھا۔ میں نے جلدی سے انہیں اٹھایا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔ ‘آپ کے ساتھ کیا ہوا بیٹا؟’ میں نے پوچھا۔تو کہا کہ سفید کپڑے میں ملبوس دو لوگ آکر مجھے زمین پرلِٹایا، سینہ چاک کر کے کچھ باہر نکالا۔ میرے شوہر اور میں نے ارد گرد تلاش کیا. لیکن کوئی نظر نہیں آیا۔ آپﷺ کے جسم مبارک پر کوئی زخم یا خون کا کوئی نشان بھی نہیں تھا۔ قریب سے دیکھنے سے ایک اور معجزہ سامنے آیا۔۔۔ آپﷺ کے کندھے پر ایک نشان! ۔۔۔

4/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

اور وہ نشان کیا مہر نبوت کا نشان ہے۔ اسے عربی میں ’’خاتمۃ النبوۃ‘‘ کہتے ہیں۔ یہ مہر آپ کی پیدائش سے موجود ہے۔ لیکن اس وقت، یہ زیادہ صاف شفاف حلیمہ سعدیہ کو نظر آگئی۔ یہ کبوتری کے انڈے کے برابر ابھرا ہوا گوشت کا ٹکڑا ہے جس پر باریک بال بھی تھے۔ شق صدر کا واقعہ سن کر حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے شوہر دونوں بے حد گھبرائے . اب کیا کیا جائے ۔ چلو جلد از جلد مکہ چلتے ہیں۔ اور بچے کو واپس حضرت آمنہ کے پاس چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی دوران اہل کتاب نے آپ ﷺ کو پہچان لیا کہ یہ کوئی عام بچہ نہیں ہے بلکہ یہ آخری نبی ہیں۔ جس کے سبب وہ لوگ خوف زدہ ہو گئے۔ کیونکہ یہودی نبی آخر الزمان کو دشمنی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
حضرت حلیمہ بیٹے کو لے کر مکہ مکرمہ میں حضرت آمنہ کے پاس گئیں۔ مختصر طریقے سے ماجرہ بیاں کيا. لیکن حضرت آمنہ نے تفصیلات مانگیں۔ حلیمہ نے بالآخر سب کچھ مفصل طور پر بتا دیا۔ تاہم تمام واقعات سننے کے بعد بھی حضرت آمنہ کے چہرے پر کوئی پریشانی نظر نہ آئی۔ اس کے بجائے انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔ میرا بیٹا بڑی شان و عظمت والا ہے۔ پھر ایام حمل اور وقت ولادت کے حیرت انگیز واقعات سنا کر حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مطمئن کر دیا۔ پھر حضرت حلیمہ نے بچے کو دوبارہ اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن حضرت آمنہ نے اجازت نہیں دی۔ اوردلی مبارکباد کے ساتھ دعائیں دی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ کی آغوشِ تربیت میں پرورش پانے لگے۔ خاندان میں سب کا پیارا بیٹا۔ خاندان میں اسی عمر کے اور بچے بھی تھے ۔ آپ ﷺ کی پھوپھی اور چچا کے بچے ۔ جیسے حمزہ اور صفیہ۔اور ان تینوں کے درمیان مضبوط رشتہ تھا۔ خوشی کے تین سال ایسے گزر گئے۔
کعبة اللہ کے صحن میں عبدالمطلب کی ایک مخصوص جگہ ہوا کرتی تھی۔ اس میں کوئی بچہ نہیں بیٹھتا تھا۔ لیکن وہاں صرف آپ ﷺ کو بیٹھنے کی اجازت تھی۔ جب اس خصوصی رعایت واجازت کے بارے میں پوچھا گیا تو عبد المطلب کا یہ جواب تھا کہ مجہے اس بیٹے میں بہت سی خوبیاں نظر آتی ہیں۔
جب آپ ﷺ چھ سال کے ہوئے تو آپ کی والد ہ محترمہ حضرت آمنہ اپنے عزیز و اقارب سے ملانے یثرب لے گئیں۔ حضرتِ آمنہ نے خادمہ ام ایمن کے ساتھ ایک تجارتی قافلہ کے ہمراہ یہ سفر شروع کیا۔ وہاں رشتہ داروں کے ساتھ کچھ دن گزارے۔ بیٹے کے ساتھ شوہر کی قبر پر بھی حاضری دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں کو بعد میں یاد کرتے تھے۔ خزرج والوں کے تالاب میں تیراکی۔۔۔ اب مکہ واپس لوٹنے کا وقت آگیا۔ سفر شروع ہوا۔ تھوڑی ہی مسافت طے ہوئی تھی… کہ حضرت آمنہ بیمار پڑ گئیں۔

5/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

اب سفر جاری رکھنا مشکل ہے۔ آرام کرنے کے لیے کہیں رکنا پڑے گا۔ اب سفر کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا. اور”ابواء” نامی جگہ پر آرام کیا۔ ابواء مدینہ سے مکہ مکرمہ کے راستے میں 273 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی بیماری اور شدید ہونے لگی حتی کہ وہ اس دنیا کو الوداع کہہ گئیں۔ حمل کے دوران والد اور اب والدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ چھ سال کی عمر میں آپ ﷺ مکمل یتیم ہو گئے۔
ماں بیٹے کے درمیان آخری لمحات کی گفتگو نہایت فکر انگیز تھی۔ اے میرے بیٹے خداوند آپ کو خیر اور برکت عطا کرے. میں آپ کو چھوڑ جارہی ہوں. آپ میں خداوند نے بے شمار خوبیاں اور خصوصیات رکھی ہیں.اگر جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا سچ ہوگا تو بے شک جلدی تم کائنات کے لیے نبی ہوں گے۔ پھر بوسے دیے ۔ حضرت برکۃ کو بیٹے کی اچھی دیکھ بھال کر نے کی وصیت کی۔ برکۃ ایک بہت خوش نصیب خادمہ ہیں، جنہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ اور یہ جلیل القدر کنیز تاریخ میں ’’اُمّ ِ ایمن‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے آپ ﷺ کے بچپن اور جوانی کا مشاہدہ کیا۔ دینی تبلیغ و ہجرت کا تجربہ کیا۔ ابتدائی دور میں ہی داخلِ اسلام ہونے کا شرف حاصل کیا۔ انہیں آپ ﷺ کی اولاد کرام اور بعد میں آپ کے نواسوں کی تربیت اور پرورش کا موقع بھی حاصل ہوا۔
مؤرّخین لکھتے ہیں کہ حضرت اُمّ ِ ایمنؓ نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ مدینہ کی ہجرت کی. دورانِ ہجرت ایک جگہ پر شام ہو گئی۔ وہ دوسروں سی الگ ہوگئیں. اُنہیں شدید پیاس لگ رہی تھی۔ لیکن قرب و جوار میں کہیں پانی نہیں تھا۔ اچانک آسمان سے پانی سے بھرا ایک ڈول اُن کے چہرے کے پاس آکر رُک گیا۔ انہوں نے اُس میں سے جی بھر کر پانی پیا اور اپنی پیاس بجھائی۔ اس کے بعد انہیں زندگی میں کبھی بھی شدید پیاس کا احساس نہیں ہوا ۔ اور انہیں آپ ﷺ سے براہ راست جنت کی بشارت موصول ہوئی تھی۔آپﷺ نے اپنے آزاد کردہ غلام، حضرت زید بن حارثہؓ سے اُن کا نکاح کرایا۔ اور آپ ﷺ کے پیارے صحابی اسامہ کی وہ ماں بن گئیں۔ اس طرح ان کے بے شمار فضائل ہیں۔
چھے سالہ یتیم بچّے نے اپنی معصوم آنکھوں سے ماں کے وصال کا منظر دیکھا، بہتے اشکوں کے ساتھ ۔ وہاں کی زمین و آسمان، پہاڑ، صحرا اور پتھر بھی رو رہے تھے ۔ اور رنج و غم کے سائے میں آپ نے خود پر قابو رکھا۔ سیّدہ آمنہؓ کا جسدِ مبارک کو ابواء میں دفن کیا گیا۔ اور جب آپ ﷺ اپنی آخری عمر میں صحابیوں کے ساتھ والدہ ماجدہ کی قبر مبارک پر حاضری دینے تشریف لائے تب بھی وہ غم ناک یادیں ظاہر ہو رہی تھی ۔
برکہ اور بیٹے نے مکہ کا سفر جاری رکھا۔ دادا عبدالمطلب کو پہلے ہی اطلاع ہو چکی تھی۔ وہ اپنے چہیتے پوتے کا انتظار کر رہے تھے۔ جب دونوں مکہ پہنچے تو انہوں نے نہایت محبت سے ان کا استقبال کیا۔حضرت عبدالمطلب نے اس گرامی بیٹے کو اپنے گھر میں رکھا اور کماحقہ عزت وتکریم کے ساتھ پرورش کرنے لگے۔ ہمیشہ آپ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اور وہ آپ کی ہر خصوصیات و غیر معمولی خصلتوں کو پہچانتے تھے ۔ اوردوسروں سے ان باتوں کا ذکر بھی کرتے تھے ۔ عبد المطلب آنحضرت کو بڑے بڑے فیصلوں میں قریش کے اشراف وامراء کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ اور آپ کے فیصلوں کو مقدم کرتے تھے۔ کھانا بھی ساتھ میں تناول کرتے تھے . اور جب محمد ﷺ ساتھ میں نہیں رہتے تو بے چین ہو جاتے تھے۔ اور وہ ام ایمن کو تاکید کیا کرتے کہ دیکھو برکہ ! میرے محمد ﷺ کا ہر وقت خیال رکھا کرو۔ کہیں باہر نہ جانے دیا کرو۔ یقینا دادا نے آنحضرت ﷺ کی کفالت کو بہت اچھی طرح انجام دیا. اور آپ ﷺ اس محبت بھری کفالت سے خوب خوش تھے۔ یوں دن گزرتے گئے۔۔۔

6/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 06/365
#اردو ترجمہ
عبدالمطلب مکہ کے امیروں کے سردار تھے۔ ان سے ملنے کے لیے دنیا بھر سے مہمان آتے تھے۔ ان میں پادری اور عالم دین بھی تھے۔ عبدالمطلب اکثر انہیں اپنے پوتے کا مشاہدہ کرتے ہوئے دیکھتے۔ پھر وہ آخری نبی کے بارے میں بات چیت کرتے۔ اور وہ ان نشانیوں کو بیان کرتے جو انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھی تھیں، تبھی عبدالمطلب فخر سے اپنے پوتے کو اپنے قریب کرتے ۔

ایک مرتبہ نجران سے ایک گروہ آیا جس نے اپنی کتاب میں آخری نبی کے بارے میں پڑھا تھا، اس گروہ میں شامل پادریوں نے مکہ کے سردار سے کافی دیر تک باتیں کیں۔ انہوں نے خاص طور پر اس نبی کا ذکر کیا جو عنقریب بھیجے جائیں گے.. آخری نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نسب سے ہوں گے، اچانک محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے آئے، تو ان کی توجہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہوگئ، انہوں نے آپ کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ خاص طور پر آپ کے کندھے، پاؤں اور پلکیں۔ انہوں نے فوراً پکار کر کہا، “یہی وہ شخص ہیں۔” پھر انہوں نے عبدالمطلب سے پوچھا، “اس بچے کے تم کون ہو؟ یہ میرا بیٹا ہے۔” عبدالمطلب نے جواب دیا۔ پادری نے کہا کیا تم اس بچے کے باپ ہو؟ یہ ممکن نہیں کہ باپ زندہ ہو عبد المطلب نے کہا یہ میرا پوتا ہے۔ پادری نے کہا ٹھیک ہے، یہ سچ ہے. وہ مان گئے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس بیٹے کا خیال رکھا جائے۔ عبدالمطلب نے اپنے تمام بچوں کو بلایا اور بتایا کہ پادریوں نے کیا کہا تھا۔ پھر انہوں نے کہا تم اس پیارے بیٹے کا خاص خیال رکھنا۔اور ہمیشہ محتاط رہنا۔

ایک دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم عبدالمطلب کے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ قبیلہ بنو مدلج کے کچھ عقلمند محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے آئے، کافی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے قریب بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں اور انگلیوں کا جائزہ لیا، پھر عبدالمطلب کو مشورہ دیا کہ آپ اس بچے کی دیکھ بھال کریں اس بچے کے قدموں کے نشان پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات کی طرح ہیں ۔

عبدالمطلب نے بہت سے لوگوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بہت سی خوشخبریاں سنی تھیں۔ یمن کے بادشاہ نے قریش کے معززین کے لیے ایک استقبالیہ کا اہتمام کیا.. شاہی استقبال کے بعد، بادشاہ نے عبدالمطلب کو ایک پرائیویٹ کمرے میں مدعو کیا. بادشاہ نے عبدالمطلب کی بہت عزت کی کیونکہ وہ متوقع پیغمبر کے دادا تھے۔ سیف بن سیاسن بادشاہ تھا۔

دادا نے اپنے پوتے کی حیثیت کو پہچان لیا۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت عزت اور پیار دیا، اسی وقت مکہ میں قحط پڑ گیا، خشک سالی اور فاقہ کشی سے اہل مکہ گھبرا گئے۔ انہوں نے خشک سالی کی نماز ادا کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ رقیقہ نامی خاتون نے خواب دیکھا.. کہ آخری نبی مکہ میں تشریف لے آئے ہیں ان کے ساتھ نماز پڑھو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ولی کی شکل و صفات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ نماز کا طریقہ خواب میں ہی بتا دیا گیا۔

صبح تک رقیقہ گھبرا گئی۔ بہرحال خواب کا اعلان ہوگیا۔

7/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 7/365
#اردو ترجمہ
مکہ والوں نے رقیقہ کا خواب سنا۔ خواب کی تفصیل کچھ اس طرح تھی۔
میں نے کہیں سے ایک آواز سنی۔ کوئی پکار رہا ہے۔ او، قریش ۔ جس رسول کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ رسول تم میں مبعوث ہونے والے ہیں۔ خوشحالی اور فلاح و بہبود آپ کے قریب ہے۔ تم میں ایک شخص ہے جو اعلیٰ نسب اور اعلیٰ ظرف والا ہے۔ وہ سفید جسم کے ساتھ خوبصورت ہے۔ لمبی پلکیں اور نرم جسم والا ہے۔ لمبی ناک اور گالوں کی موٹی ہڈیوں والا ہے۔ اس کے بچے اور پوتے قطار میں لگے ہوئے ہوں ۔ مکہ کے ہر قبیلے کا ایک ایک نمائندہ بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو۔ یہ سب کعبہ کے کونے میں جمع ہوں۔ کعبہ کو احترام کے ساتھ بوسہ دینے کے بعد سب کو چاہیے کہ کعبہ کا سات بار طواف کریں۔ پھر سب مل کر جبل “ابو قبیس” پر نماز ادا کریں۔ سب کو قائد کے گرد جمع ہونا چاہیے۔ رہبر کو چاہیے کہ وہ سب سے زیادہ قابل احترام شخص کو اپنے سامنے کھڑا کر کے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔ دوسرے کہیں “آمین

شاعرہ رقیقہ غسل کر کے خانہ کعبہ پہنچ چکی تھی۔ اور خانہ کعبہ کا طواف بھی مکمل کر چکی تھی۔ عبدالمطلب اور ان کے بیٹے اور مکہ کے دوسرے معززین بھی تشریف لائے۔ جب عبدالمطلب چوٹی پر پہنچے تو سات سال کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔ عبدالمطلب نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی شروع کی کہ اے مصیبتوں کو دور کرنے والے… ہم تیرے مقدس گھر کے صحن میں موجود ہیں ہم قحط سالی سے پریشان ہیں، ہم تجھ سے التجا کر تے ہیں، ہم پر اپنا فضل فرما، اور امن، خوشحالی اور برکت کی بارش کا نزول فرما ۔

رقیقہ اسی حال میں تھی.. کہ عبدالمطلب کی نماز ختم ہوئی۔ اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی… وادیاں بھر گئیں اور سب خوش ہو گئے۔ سب نے عبدالمطلب کی تعریف کی۔ رقیقہ نے اس تقریب میں ایک یادگار نظم سنائی۔ خیال کچھ یوں ہے کہ “اللہ نے ہمیں شیبة الحمد (عبدالمطلب) کے ذریعے بارش عطا فرمائی۔ ایک طویل عرصے کی تکالیف کے بعد یہ ایک بابرکت سال ہے۔ پودے اگنے لگے۔ تمام مخلوقات کو بکثرت بارش میسر ہوئی۔ خشک وادیاں۔ سبز لباس میں ملبوس ہوگئیں۔” “یہ برکت اس رسول کی وجہ سے ہے جو قبیلہ قریش میں پیدا ہونے والا ہے۔ وہ نسل انسانی میں ایک منفرد شخصیت ہیں۔

ہر واقعہ شخصیت کو نکھار رہا تھا۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنکھ کا مرض لاحق ہوا۔ آپ کے دادا نے بہت سی دوائیں استعمال کیں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ آخر کار عبدالمطلب نے عکاز بازار کے ایک حکیم سے مشورہ کیا۔ وہ مذہبی عالم بھی تھا ۔ عبدالمطلب اور پوتا حکیم کے گھر گئے۔ معائنے کے بعد حکیم نے کہا کہ یہ کوئی عام بچہ نہیں ہے، یہ نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، عرب کے لوگ اس بچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ، ہمیشہ محتاط رہیں۔ حکیم نے انہیں دوا دی اور الوداع کہا

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر اب آٹھ سال ہے۔ عمر رسیدہ عبدالمطلب بھی اب تھکنے لگے ہیں ۔

8/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 08/365

عبدالمطلب کی عمر اب 120 سال ہے۔ (تاریخ میں 82،95، 140،144 کے اقوال بھی موجود ہیں) اور وہ سوچنے لگے کہ وہ جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہو جائینگے۔ پھر ان کی ایک الگ خواہش تھی انہوں نے کہا کہ میں اپنی مرثیہ سننا چاہتا ہوں جو میرے مرنے کے بعد گائی جائے گی ( عام طور پر جنازے میں مرنے والوں کی تعریف میں مرثیہ پڑھا جاتا تھا ) انہوں نے اپنی چھ بیٹیوں کو بلایا جو شاعرہ تھیں۔ ان کے نام صفیہ، برا، عاتکہ، ام حکیم، امیمہ اور اروی ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ تمام بیٹیوں نے اپنی ذمہداری بخوبی نبھائی۔ ان کی بڑی بیٹی صفیہ کی طویل نظم نے انہیں بہت خوش کیا۔ ان کو اپنی مرثیہ خود سننے کا شرف حاصل ہوا ۔پھر مکہ کے عظیم رہنما اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

آٹھ سالہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پیارے دادا کے انتقال سے بہت افسردہ تھے۔ وہ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سب کچھ تھے۔ عبدالمطلب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور دادا دونوں تھے کیونکہ انہوں نے اپنے والد کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یتیمی کا درد بھی سہا۔ آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ام ایمن، رضاعی والدہ یہ منظر بیان کرتی ہیں: “نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر آٹھ سال تھی جب عبدالمطلب اس دنیا سے رخصت ہوئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبدالمطلب کے بستر کے پاس بہت دیر تک روتے اور یتیمی کے درد کو برداشت کرنے کی تعلیم دیتے دیکھا۔

عبد المطلب بستر مرگ پر بھی اپنے پوتے کے بارے میں سوچ رہے تھے اس لیے عبدالمطلب نے اپنے بیٹوں کے لیے کچھ خاص وصیتیں کیں۔ .آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی ذمہ داری اپنے بیٹے ابو طالب کے سپرد کی۔ ابو طالب عبداللہ کے بھائی تھے، (محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے والد)۔ اس سلسلے میں ایک اور روایت ہے، زبیر نے عبدالمطلب کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت کا مطالبہ کیا، کفالت کے لیے اپنے بھائی ابو طالب سے مقابلہ کیا۔ آخر کار فیصلہ ہوا۔ قرعہ اندازی کی جائے۔ ابو طالب نے قرعہ جیت لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کی کفالت میں زیادہ دلچسپی تھی۔ تاہم زبیر نے جتنا بھی ہو سکتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص خیال رکھا۔ زبیر کا انتقال اس وقت ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چودھ سال تھی ۔

ابو طالب کو اپنے والد کی طرح مکہ کی قیادت ملی، لیکن ان کی معاشی حالت اتنی اچھی نہیں تھی۔ ان کے لیے زیادہ افراد والے خاندان کے اخراجات پورے کرنا مشکل تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے انہیں سکون ملا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد گھر کے تمام افراد کے لیے تھوڑی مقدار میں کھانا کافی ہوجاتا۔ ابو طالب اپنے بچوں سے کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے تک انتظار کریں۔ پینے کے لیے دودھ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جاتا، پھر دوسرے بچوں کو دیا جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے بعد ملنے والی نعمتوں کا ذکر کرتے۔ وہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی ہر حرکات و سکنات پر نظر رکھتے تھے۔ ابو طالب بہت محتاط تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یتیمی کا درد محسوس نہ ہو۔

بہر حال ایک شک ضرور پیدا ہو گا۔ کیا یتیمی بدقسمتی تھی؟ (جاری ہے………

9/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 09/365
#اردو ترجمہ

یتیمی کو اکثر بدقسمتی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یتیموں کو اکثر زیادہ نہیں ملتا۔ خاص طور پر وہ مناسب نظم و ضبط حاصل نہیں کر سکتے ہیں. لیکن ان میں سے کسی نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو متاثر نہیں کیا۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یتیمی کچھ اصولوں پر مشتمل ہے۔ جن لوگوں نے اس موضوع کا خاص طور پر مطالعہ کیا ہے انہوں نے اسے دستاویزی شکل دی ہے۔ سیدنا جعفر صادق رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلۂ نسب کے اعلیٰ ترین امام ہیں، فرماتے ہیں، ’’ان کو اس حال میں بڑا ہونا تھا کہ کسی پر کوئی ذمہ داری نہ ہو۔‘‘ جبکہ والدین کی ذمہ داری کبھی پوری نہیں ہوتی

ایک اور وضاحت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام شان و شوکت براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ہی ہے جس نے مجھے تادیب کیا اور یہی سب سے بہتر نظم تھا۔ اللہ بلند کرے گا تو کوئی بھی بلند ہو گا اور یتیمی اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہوگی۔ جو شخص یتیم بن کر پروان چڑھتا ہے اسے یتیموں کے درد کا جلد احساس ہوتا ہے۔ قیامت تک کے تمام یتیموں کو یہ سوچ کر سکون ملے گا کہ آپ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی یتیم تھے۔ انبیاء کی قابلیت اور صلاحیتیں خدا کی عطا کردہ ہیں اور کسی سے مستعار نہیں ہیں۔ اس طرح اس یتیمی میں بہت سے اصول پوشیدہ ہیں۔ سب سے بڑھ کر، خالق نے اپنے حبیب کو اپنی براہ راست دیکھ بھال میں بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک سعادت اور نعمت ہے۔ یہ کوئی ذلت یا عیب نہیں ہے، قرآن پاک نے باب نمبر 93 میں اس کا انکشاف کیا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو طالب کے ساتھ خوش و خرم رہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محنت اور جانفشانی قابل دید تھی۔ ابو طالب نے ایک تجربہ بیان کیا۔ “محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ساتھ رہتے تھے، جب میں کھاتا اور سوتا تھا، ابو طالب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اسلوب کا خاکہ اس طرح لکھا ہے کہ ہر کوئی صبح کو جمائی لے کر اٹھتا ہے۔ لیکن میں نے سستی یا کمی کی کوئی علامت نہیں دیکھی۔ ان میں جوش و خروش، ہمیشہ صفائی اور وقت کی پابندی تھی۔ بالوں کو ہمیشہ کنگھی اور صاف ستھرا رکھتے تھے گویا تیل لگا ہوا ہو ۔ ابو طالب ایک اور تجربہ بتاتے ہیں۔ ایک بار جب میں سونے کے لیے جانے والا تھا تو میں نے اس سے کہا کہ میرے پیارے بیٹے ابھی اندھیرا ہے۔ رات کو تو اپنا لباس اتار کر سو جا۔ (یاد ہے کہ ان دنوں لوگ کعبہ کا ننگے سر طواف کیا کرتے تھے) میں آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی دیکھ سکتا تھا۔ وہ میری رائے کو بھی رد نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے مجھے کمرے کی دوسری طرف دیکھنے کو کہا۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی مجھے بغیر ستر کے دیکھے۔ میں الٹی طرف مڑ کر لیٹ جاتا ہوں۔ پھر کپڑے بدل کر چادر پر لیٹ گیا۔ رات کو جب میں بیدار ہوا تو میں نے اپنے پیارے بیٹے کو خوبصورت لباس پہنے سوتے ہوئے دیکھا جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ کمرہ اچھی کستوری کی خوشبو سے بھر گیا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی

ابو طالب کہتے ہیں کہ اُنہوں نے کئی راتوں اپنے بیٹے کو اپنی خواب گاہ میں نہیں دیکھا ۔ میں گھبرا کر اسے پکارتا۔ تو جلد ہی وہ میرے سامنے حاضر ہو کر کہتا کہ ‘میں حاضر ہوں’۔ کئی راتوں کو میں غیر مانوس گفتگو سنتا۔ کھانے سے پہلے بسم اللہ کہتے۔ پھر اس کے بعد “الحمدللہ”۔ ہم پہلے ایسے معمول سے واقف نہیں تھے۔ ان کے دادا نے چھوٹی عمر میں ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ان خصوصیات کو پہچان لیا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ یہ ایک غیر معمولی شخصیت ہیں ۔

ہم مزید پڑھیں گے کہ ابو طالب نے کس طرح بعض نازک حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کی۔

10/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 10/365
#اردو ترجمہ

ابو طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ بحران کے وقت ان کی موجودگی ایک نعمت ہے۔ جلہمہ بن عرفطہ نے روایت کیا ہے کہ میں سخت خشک سالی کے وقت مکہ گیا ۔ قریش نے کہا؛ پیارے ابو طالب، وادیاں سوکھ گئی ہیں اور خاندان بھوکے مر رہے ہیں۔ مہربانی کرکے آگے آئیں اور بارش کے لیے دعا کریں۔ ابو طالب تیار ہو گئے۔ ان کے ساتھ ایک خوبصورت بچہ تھا۔ بچے کا چہرہ صاف آسمان پر چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ خوبصورت تاثرات کا مالک۔ ان کے ارد گرد چند نوجوان بھی تھے ۔

ابو طالب بچے کو کندھوں پر اٹھائے خانہ کعبہ کے قریب پہنچے۔ انہوں نے بچے کو خانہ کعبہ کی دیوار سے کھڑا کر کے اپنے ہاتھ سے پکڑ لیا ۔ چند لمحوں کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ ہر طرف سے بادل چھا گئے۔ اور موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ مکہ اور اس کی وادیاں تر ہوگئیں اور موسم خوشگوار ہو گیا۔ اس عظیم واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابو طالب نے ایک خوبصورت نظم کہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شعر سن کر بہت خوش ہوئے۔

کئی دہائیوں بعد مدینہ میں جب خشک سالی ہوئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا فرمائی۔ تو مبارک بارش برسنے لگی، آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس خوشی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو یاد کیا اور فرمایا۔ ’’ابو طالب اگر زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے‘‘۔ پھر آپ نے وہاں جمع ہونے والے لوگوں سے پوچھا۔ وہ نظم کون پڑھ سکتا ہے جو ابو طالب نے برسوں پہلے پڑھی تھی، ابو طالب کے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے، انہوں نے نظم پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے ۔

ابو طالب کی زندگی کے تجربات کے عجائبات یہیں ختم نہیں ہوئے۔ عمرو بن سعید ابو طالب سے روایت کرتے ہیں۔ ابو طالب کہتے ہیں کہ میں اپنے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ‘ذوالمجاز’ میں تھا، مجھے بھوک اور پیاس ناقابل برداشت محسوس ہوئی، میں نے اپنے بیٹے سے کہا، “بیٹا، مجھے بہت پیاس لگی ہے، اس نے مجھ سے پوچھا، کیا تمہیں پیاس لگ رہی ہے؟ میں نے جواب دیا ہاں بیٹا مجھے بہت شدت کی پیاس لگی ہے، اچانک انہوں نے قریبی چٹان کو اپنے پاؤں سے نرمی سے لات ماری، حیرت کی بات یہ ہے کہ صاف صاف پانی بہہ نکلا، پانی کی اچھی ندی، میں نے چٹان سے ایسا چشمہ کبھی نہیں دیکھا، میں نے اس سے پانی پیا۔ میری پیاس بجھ گئی پھر میرے بیٹے نے پوچھا کیا تمہاری پیاس بجھ گئی ہے؟ میں نے کہا ہاں. پھر اس نے ایک بار پھر چٹان کو چھوا۔ چٹان اپنی سابقہ حالت میں واپس آ گئی۔ پانی کا بہاؤ رک گیا” اسے امام ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

ابو طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ محتاط ہوتے گئے کیونکہ وہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ آپ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نجومیوں اور دوسرے مخالفین کے فریب سے دور رکھا۔ ایک دفعہ ایک نجومی مکہ آیا۔ اس کا تعلق قبیلہ اسد شنوہ سے تھا اس کا نام لہب بن احجان تھا۔ اس کی کچھ پیشین گوئیاں سچ ثابت ہوئی تھیں۔ مکہ کے بعض توہم پرست لوگ اپنے بچوں کو اس کے پاس لاتے تھے لہب نے جونہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو آپ کا بغور مشاہدہ کرنا شروع کر دیا، اس بات سے ابو طالب پریشان ہو گئے اور اس نجومی نے بحث کو دوسرے موضوع کی طرف موڑ دیا۔ اور کہنے لگا وہ بچہ کہاں ہے؟ لہب پوچھتا رہا۔ مجھے اس لڑکے کو ایک بار پھر دیکھنے دو! اس بچے کا مستقبل روشن ہے۔

ابو طالب زندگی بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حامی اور ایک ذمہ دار محافظ تھے جنہوں نے ہر ممکنہ خطرات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے اپنی تمام تر طاقت استعمال کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طویل سفر میں بھی ابو طالب کے ساتھی رہے۔ اس وجہ سے آپ کے پاس ان کے ساتھ گزارے ہوئے کچھ یادگار لمحات بھی تھے …

11/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 11/365
#اردو ترجمہ

ابو طالب اپنے پیارے بیٹے کے ساتھ ساتھ مکہ کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے لیکن مالی بحران کی وجہ سے کاروباری دوروں سے گریز نہ کر سکے۔ کیونکہ مکہ کے لوگوں کی روزی کا سب سے بڑا ذریعہ تجارت تھا۔

ایک ہی راستہ تھا کہ وقتی طور پر بیٹے کو دوسروں کے سپرد کیا جائے ۔ ذمہ داروں کو سرپرستی سونپ دی گئی۔ سفر کی تیاریاں مکمل تھیں۔ اسی لمحے آپ کے بیٹے کے چہرے کے تاثرات بدلنے لگے۔ اس نے اپنے چچا کے اونٹ کی لگام کو پکڑ لیا۔ کیا تم مجھے کسی اور کے ساتھ چھوڑ کر جا رہے ہو؟ میں یہاں اپنے والد اور والدہ کے بغیر اکیلا رہوں گا۔ کیا تم مجھے اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے؟ آپ کی آنکھیں نم ہوگئیں: ابو طالب کو اپنے بیٹے کے چھوڑ جانے کے درد کا احساس ہوا۔ آپ نے جدائی کے دردناک زخم کو پہچان لیا۔ شفقت اور محبت چھلک رہی تھی۔ آپ نے بیٹے کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔ ‘قسم خدا کی! میں تمہیں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ میں اپنے بیٹے کو نہیں چھوڑ سکتا۔ نہیں، میں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔

چار سال کی لازم و ملزوم زندگی کا تسلسل کی وجہ سے بارہ سالہ محمد ﷺ نے اپنے چچا کے ساتھ قافلہ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہ سفر شام (موجودہ سیریا) کا تھا۔

قافلے نے سفر کے دوران آرام گاہوں پر آرام کیا اور کچھ دیر بعد سفر دوبارہ شروع کیا، یہ قافلوں کا رواج تھا۔جب یہ قافلہ ملک شام کے ضلع حوران کے قصبہ بصرہ پہنچا۔ تو قافلے نے اس درخت کے نیچے خیمہ لگایا جہاں قریش کا قافلہ آرام کیا کرتا تھا۔

درخت کے ساتھ ہی ایک پادری کی خانقاہ تھی جس کا نام ‘جرجیوس’ تھا۔ وہ اس وقت کے صف اول کے کاتبوں میں سے تھے۔ جرجیوس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد روحانی اساتذہ کے سلسلے میں چھٹے شخص تھے۔ سلسلہ نسب کو اس طرح پڑھا جا سکتا ہے: عیسیٰ علیہ السلام یحییٰ علیہ السلام دانیال علیہ السلام، دسیخا پادری، نستورہ اور ان کا بیٹا معید جرجیوس۔( اسے عبداللہ الاصبھانی نے نقل کیا ہے )۔ یہ جرجیوس ‘بحیری کے نام سے مشہور تھا۔ بحيرى کا مطلب ہے ایک قابل بائبل کا عالم۔ اس کے متعلق آراء ہیں کہ آیا وہ یہودی تھا یا نصرانی۔ متفق علیہ ہے کہ وہ سب سے پہلے حضرت موسیٰ کے طریقے پر تھے اور اس کے بعد عیسیٰ کے طریقے پر۔ جرجيوس قریش کے قافلے کو دیکھ رہا تھا،اور اس کی خصوصیات نوٹ کر رہا تھا۔

بحیری نے سوچا۔ اس قافلے میں بادل کس کے لیے ساتھ چل رہے ہیں؟ میں اس خاص شخص سے کیسے مل سکتا ہوں جس پر بادل سایہ کرتا ہے؟ عام طور پر میں باہر نہیں جاتا۔ میری خانقاہ کے قریب سے بہت سے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ لیکن مجھے پرواہ نہیں تھی۔ آخر کار ایک خیال آیا۔ کیوں نہ ایک دعوت تیار کریں اور اس قافلے کو مدعو کریں؟ ٹھیک ہے. قافلے نے دعوت قبول کر لی۔ وہ عین وقت پر پہنچ گئے۔ سب کا احترام سے استقبال کیا گیا۔ ‘زائرین کے لیے عزت اور خوشی میں اضافہ ہوا۔ یہ بصرہ کے سب سے بڑے عالم نے قافلہ کو دعوت میں مدعو کیا۔ اس کا چمکتا چہرہ، خوش اخلاقی اور بزرگانہ رویے نے مہمانوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ لیکن بحیری اس خاص شخص کی تلاش میں تھا۔ اس خاص شخص نے دعوت میں شرکت نہیں کی۔
پادری نے قافلے والوں سے کہا میں نے آپ کے قافلے میں سب کو ضیافت میں بلایا ہے۔ کیا سب نے شرکت نہیں کی؟ بحیری سے کسی نے پوچھا کہ ہم اس راستے سے شام تک کتنی بار گزرے ہیں! یہ کچھ غیر معمولی ہے کہ آپ نے آج ایک دعوت تیار کی ہے! یہ سچ ہے. آپ مہمان ہیں۔ اس لیے میں نے آپ کی ضیافت کرنا چاہی لیکن ابھی تک کسی کا آنا باقی ہے۔

11/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 11/365

ٹویٹ 12/365
#اردو ترجمہ

ہاں، ہم میں سب سے چھوٹا ہمارا سامان لے کر درخت کے نیچے آرام کر رہا ہے۔ سب بزرگ آگئے ہیں۔ بحیرہ نے مداخلت کی۔ یہ اچھی بات نہیں ہے ۔ اسے بھی بلاؤ۔ پھر قافلے میں سے کسی نے کہا۔ ہماری طرف سے یہ درست نہیں تھا کہ ہم نے عبداللہ کے بیٹے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اجتناب کیا۔ بحیرہ نے یہ سنا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا ۔ محمد ﷺ کا نام سنتے ہی اس کے دماغ میں ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ اس نام کی مشابہت “احمد” سے ہے توریت میں جس کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔ جلد ہی قافلے میں سے ایک شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لے آیا۔ جیسے ہی اس نے بچے کو دیکھا، اس کی بصیرت کھل گئی اور اس کے ذہن میں بادل کے سائے میں چلنے والے لڑکے کا نظارہ آیا۔ اس نے قافلے سے پوچھا۔ اس مشکل سفر میں آپ اس بچے کو ساتھ کیوں لائے؟ مزید یہ کہ آپ نے بچے کو سامان کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیا؟ جواب کا انتظار کیے بغیر وہ بچے کو قریب سے دیکھنے لگا۔ یہ وہ شخص ہے جس کے پاس پیغمبر کی تمام نشانیاں ہیں! صحیفوں میں بھی مہر نبوت کا ذکر ہے۔ لیکن میں اس سے کیسے کہہ سکتا ہوں کہ وہ قمیض کھول کر کندھے کا جائزہ کرائے؟ یہ سنتے ہی قریش اٹھے اور اپنے خیمے کی طرف لوٹنے لگے۔ ابو طالب تھوڑی دیر وہیں رک گئے۔ ابو طالب پادری سے پوچھنا چاہتے تھے کہ وہ اس بیٹے میں کیا دیکھ رہے ہیں؟ پھر پادری نے بات شروع کی۔ ‘میں تم سے لات و عزہ کے نام سے پوچھتا ہوں۔ کیا آپ ایمانداری سے جواب دیتے ہیں؟ بچے نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے کہا۔ “لات و عزہ سے کچھ مت مانگو” ⁇اچھا مجھے خدا سے مانگنے دو۔ “ہاں آپ پوچھ سکتے ہیں”۔ بحیرہ نے کچھ ذاتی سوالات پوچھے۔ اس کا صاف جواب دیا۔ مہر نبوت کا جائزہ لیا گیا۔ بحیرہ کو یقین آ گیا۔ بحیرہ کی تبدیلی سے ابو طالب حیران رہ گئے۔ اس نے پوچھا. آپ اس معاملے کو بڑی اہمیت سے کیوں نمٹا رہے ہیں؟! اے قریش! یہ وہ نبی ہے جسے کائنات کے حکمران نے دنیا پر رحم کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ بحیرہ نے جواب دیا۔ گفتگو جاری رہی۔ آپ کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ یہ وعدہ شدہ نبی ہے؟ ہاں میں آپ کے قافلے کو دور سے آتے دیکھ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ دونوں طرف کے درخت اور پتھر اس شخص کی طرف جھک رہے ہیں۔ بے جان چیزوں سے ایسی عزت صرف ایک نبی ہی حاصل کر سکتا ہے۔ مزید یہ کہ میں نے کندھے پر مہر نبوت بھی چیک کی۔ میں نے دیکھا کہ آپ کے قافلے میں بادل کس کے لئے چھائے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے ابو طالب کا انٹرویو کیا۔ یہ کون ہے؟ میرا بیٹا. ایسا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اس بچے کے والد کے زندہ ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ہاں یہ سچ ہے یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ باپ کہاں ہے؟ ان کے والد اس دنیا سے رخصت ہو گئے جب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں تھے۔ اللہ… اس بچے میں نبی کریم کی تمام نشانیاں جمع کر دی گئی ہیں۔ اے ابو طالب… میری آپ سے ایک درخواست ہے۔ اپنے بھتیجے کے ساتھ جلدی سے گھر واپس چلے جائیں۔ اگر یہودی اس بچے کو پہچان لیں تو وہ نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ وہ نبی ہے جس کی پیشین گوئی ویدوں نے کی ہے اور یہ عظیم شان کے مالک ہیں

جرجیوس، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا، نبوت سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ ایمان کے ساتھ آخرت کی فتح کی امید کے ساتھ روانہ ہوا.. وصال نصف صدی کی جستجو کی انتہا تھی… بحیرہ جو کہ تاریخِ نبوی میں نمایاں تھے ایک نہ ختم ہونے والی یادوں کا حصہ بن گئے

13/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 365/13
اردو ترجمہ
پادری ‘بحیرہ’ سے ملاقات کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ اس کو تقریباً تمام مورخین نے نقل کیا ہے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ درج کی ہے۔ اس یادگار ملاقات سے ہمیں کچھ اہم معلومات ملتی ہیں۔ (1) دنیا ایک نبی کی منتظر تھی، (2) صحیفوں میں مبعوث ہونے والے نبی کے بارے میں معلومات موجود تھیں، (3) وہ علماء جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جانتے تھے، وہاں زندہ تھے۔ (4) انہوں نے نشانیوں سے پہچاننے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کی۔

بعد میں ویدوں میں تحریفات نے ان میں سے بہت سے حقائق کو بدل دیا۔ تاہم، بائبل اور دیگر صحیفوں میں اب بھی بہت سے اقتباسات موجود ہیں جو کہ صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے موزوں ہیں .اس موضوع پر متعدد مطالعات دستیاب ہیں۔ اہل کتاب کے بارے میں قرآن پاک کہتا ہے۔ جب ان کے پاس اللہ کی وہ کتاب (قرآن)آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کی تصدیق فرماتی ہے اور اس سے پہلے وہ اسی نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا اس سے منکر ہو بیٹھے تو اللہ کی لعنت کافروں پر۔(سورة البقرة آیت نمبر 89).

یہود و نصاریٰ کے درمیان آخری نبی کے بارے میں بحثیں پھیلی ہوئی تھیں۔ قرآن یہی کہتا ہے۔ “وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جانتے تھے جیسے وہ اپنے بچوں کو جانتے ہیں”۔ اہل کتاب مشرکین سے گفتگو کرتے وقت یہ بات کہتے تھے۔ آخری نبی آئے گا اور ہم ان کی پیروی کریں گے۔ لیکن جب انہوں نے سنا کہ پیغمبر عرب میں سے پیدا ہوئے ہیں تو وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے .کیونکہ وہ بنیادی طور پر بعض مفادات کے تابع تھے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے سے انکار کر دیا کچھ مادی نقصانات کے خوف سے۔

ہم ابو طالب کے ساتھ شام کے سفر کے بارے میں بتا رہے تھے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر کی ایک اور مختصر تفصیل ہے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھارہ سال کے تھے۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوئے، قافلہ شام میں ایک درخت کے نیچے ٹھہرا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ قریب ہی رہنے والے ‘بحیرہ’ نامی پادری کے پاس گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کچھ ذاتی معاملات دریافت کرنے کے لیے پادری کے پاس گئے۔ پادری نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ شخص کون ہے جو اس درخت کے نیچے آرام کر رہا ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو عبداللہ کے بیٹے، اور عبدالمطلب کے پوتے ہیں۔ پادری نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ۔ ’’وہ اس قوم کے نبی ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سے کسی نے اس درخت کے نیچے آرام نہیں کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ لیکن اس سفر کا تذکرہ اہم سیرت کی کتابوں میں نہیں ہے۔ لیکن بہت سے جدید اور معتبر علماء کی رائے ہے کہ اس واقعہ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

تاریخ کی کتابوں میں اس طرح کا ایک اور حوالہ موجود ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک سفر کے دوران ایک پادری کے پاس گئے تو پادری نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر دی۔

بہت سے مورخین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے چچا زبیر کے ساتھ یمن کے سفر کا قصہ بیان کیا ہے۔ لیکن راوی اتنے مضبوط نہیں ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی مثالی تھی۔ وہ گندے ماحول میں بغیر کسی عیب کے رہتے تھے۔ آپ نے روزی روٹی کے لیے سخت محنت کی .آئیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محنتی طبیعت کے بارے میں مزید پڑھیں …..

14/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

#ٹویٹ 14/365
#اردو ترجمہ

مویشیوں کے چرانے کی طرح تجارت بھی مکہ والوں کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ بھیڑوں کا چرانا دوسرے مویشیوں کے چرانے سے بہت مختلف تھا۔ یہ دنیا کا سب سے عام کام ہے۔ گلہ بانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچپن ہی سے پسند تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار جب آپ بنو سعد کے بچوں کے ساتھ گئے تو بھیڑ چرانے کا تجربہ یاد آیا۔ وہ اپنے خاندان کی بھیڑ بکریاں مفت میں چراتے تھے اور مکہ کے دوسرے لوگوں کے لیے تھوڑی سی اجرت میں۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم نے پیلو کے پختہ پھل چننا شروع کئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”کالے رنگ کا چنو اچھا ہو گا۔ میں نے آپ سے پوچھا کہ کیا آپ نے بھیڑیں چرائی ہیں؟ آپ نے جواب دیا ہاں تمام انبیاء نے بھیڑ بکریوں کو چرایا ہے۔ ایک بار پھر آپ نے عزت نفس کے ساتھ کہا کہ “حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور وہ بھیڑ بکریوں کی دیکھ بھال کرتے تھے، حضرت داؤد علیہ السلام نے بھی ایسا ہی کیا تھا، مجھے بھیجا گیا تو میں اجیاد میں اپنی بکریوں کو چراتا تھا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ۔اسے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

بکریوں کے چرانے کے ذریعہ معاش کے علاوہ اور بھی بہت سے فوائد ہیں۔ یہ مستقبل میں ایک بڑی قوم کی قیادت کرنے کے لیے ایک رہنما کی تربیت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام خوبیوں کو حاصل کرنے کا موقع ملا۔ یہ ضروری ہے کہ جو لوگ بھیڑ بکریوں کو چراتے ہیں تو ان کی ہمیشہ دیکھ بھال بھی کریں ۔ بھیڑیں کمزور مخلوق ہیں۔ ان کی افزائش کے لیے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ ادھر ادھر بہک جانے کا امکان ہے ۔ ہوشیار رہنا چاہیے کہ بھیڑیے کی گرفت میں نہ آئیں۔ اور چوروں کے لوٹنے سے بچی رہیں۔ اور اس سب کے لئے بہت صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام خوبیوں کو حاصل کرنے کا موقع ملا۔ عالمی شہرت یافتہ عالم امام ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اعلان نبوت کے بعد بھی بھیڑ بکریوں کے چرانے کو یاد کرتے تھے ۔ یہ آپ کی تواضع اور انکساری کی کی بڑی مثال ہے۔ اور یہ تواضع اس خیال سے آیا کہ جو ملا ہے وہ صرف اللہ کے فضل سے ملا ہے۔

یہ وہ باب ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مالی پاکیزگی کا درس دیتا ہے۔ اس میں مزدور کی قدر ہوتی ہے۔ اللہ اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کیے بغیر دولت دے سکتا تھا۔ لیکن اس نے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بنی نوع انسان کے لیے ایک مثال قائم کی کہ کوئی بھی انسان کچھ بھی کام کر سکتا ہے جو جائز ہو۔ چرواہے کو نسبتاً کمتر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آپ کبھی کبھار فخر سے اس کا ذکر کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ بھیڑ خوشحالی کی علامت ہے اور اونٹ فخر کی علامت ہے۔ بہترین خوراک وہ ہے جو ہم خود کوشش سے حاصل کریں۔ یہ نبی کی نصیحت تھی۔

یہ تب ہی ہوتا ہے جب کوئی لوگوں سے گفتگو کرتا ہے تو اس کی شخصیت کا صحیح معنوں میں یقین ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہی کوئی شخص ایمانداری، وفاداری، انصاف وغیرہ کی خوبیوں کا تجربہ کرسکتا ہے۔ معاشرے کے ساتھ رہو، روزمرہ کے معاملات میں لوگوں کے ساتھ گھل مل جاؤ، بھلائی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور برائیوں سے دور رہو۔ یہ حضور کی زندگی تھی۔

معاشرے نے سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منفرد خصوصیات کا تجربہ کیا۔ چنانچہ اتفاق رائے کے ساتھ، انہوں نے آپ کو “الامین”، قابل اعتماد لقب سے نوازا۔ مورخ ولیم مور لکھتے ہیں: غیرت مند نوجوان کے منصفانہ کردار اور باوقار شخصیت نے اپنے ہم وطنوں کی پذیرائی حاصل کی”: اور انہوں نے یہ لقب حاصل کیا، ” عام رضامندی سے الامین امانت دار۔ (حیات محمدی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عالم شباب کو ہمیشہ رول ماڈل کے طور پر پڑھا جائے گا

15/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

# ٹویٹ 15/365
#اردو ترجمہ

چھٹی صدی عیسوی میں مکہ میں رہنے والا معاشرہ انتہائی غیر مہذب تھا۔ ہم ان میں سے ایک روشن نوجوان کے بارے میں پڑھ رہے ہیں۔ ایسا معاشرہ جو جھوٹ اور چوری کو برائی نہیں سمجھتا۔اسی معاشرے میں ایک نوجوان تھا جو مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولتا۔ وہ لوگ جو شراب کو مقدس پانی یا پینے کے پانی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ لیکن وہ مہذب نوجوان ہے جس نے کبھی بھی شراب نہیں چکھی۔ ایک طبقہ جس میں ہر طرح کی غیر اخلاقی سرگرمیاں ہیں۔لیکن ان میں وہ شخص بھی ہے جس نے کبھی کسی گندگی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ اس طرح مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش ہوئی۔

ہم اس مثالی زندگی کے پیچھے اللہ رب العزت کا خاص فضل وکرم پا سکتے ہیں۔
ہم ایک مستند روایت اس طرح پڑھ سکتے ہیں کہ قریش خانہ کعبہ کی تعمیر نو کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پتھر اٹھا کر دینے والوں میں سے ہیں چچا عباس رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے۔ مروجہ دستور یہ تھا کہ وہ لوگ اپنے کپڑے اتار کر کندھے پر پتھر لے جانے کے لیے رکھا کرتے تھے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کپڑے اتارے بغیر کندھے پر پتھر اٹھائے ہوئے تھے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تم اپنے ننگے کندھے پر پتھر کیوں اٹھائے ہوئے ہو ؟ اپنی چادر اتار کر کندھے پر رکھ لو (آپ نے انکار کر دیا۔) جب وہ دونوں اکیلے میں تھے تو اپنے چچا کی رائے پر غور کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر اتارنی شروع کی۔ فوراً بے ہوش ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے برہنہ چلنے سے منع کیا گیا ہے، بعد میں ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔

یہ واقعہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعلان نبوت سے پہلے ہی گناہوں سے محفوظ تھے۔ امام بخاری نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ اس واقعے سے پہلے ایک واقعہ اور پیش آیا۔ ایک بار آپ بچوں کے ساتھ پتھر لے کر جا رہے تھے پھر ایسے ہی کپڑے اُتروانے کی کوشش کی گئی۔ تب آپ نے ہاتف غیبی سے آواز سنی کوئی کہ رہا ہے “اپنے کپڑے پہن لو” آپ نے نصیحت سنی اور پیچھے سے کسی نے آپ کی پیٹھ پر زور سے مارا۔ لیکن آپ نے نہ کوئی تکلیف محسوس کی اور نہ ہی کسی کو دیکھا۔ پھر آپ نے پتھر کو کندھے پر اٹھایا اور کام ختم کیا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں “ایک دفعہ ابو طالب زمزم کے کنویں کی مرمت کر رہے تھے، ان کے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے، ایک شخص جسے لڑکے پر ترس آیا، اس نے اس کے کندھے کو چادر سے ڈھانپنے کی کوشش کی۔ جلد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو گئے، جب یہ بات واضح ہو گئی تو ابو طالب نے پوچھا، “کیا ہوا؟”آپ نے جواب دیا میرے پیارے چچا میرے پاس ایک خوبصورت آدمی آیا اور کہا: “اپنے جسم کو ڈھانپ لو۔” علماء نے اس واقعہ کو ایک عظیم واقعہ قرار دیا ہے۔ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعلان نبوت سے پہلے وحی نازل ہوئی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کی علامت بن کر زندگی بھر اصلاح کرتے رہے۔ علی رضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’میں نے کبھی کوئی ایسی برائی کا ارتکاب کرنے کا سوچا بھی نہیں تھا جو زمانہ جاہلیت میں لوگ کرتے تھے لیکن دو موقعے ایسے آئے جب اللہ تعالیٰ نے دونوں موقعوں پر میری حفاظت فرمائی۔ ایک دن اپنے دوستوں کے ساتھ بکریاں چرا رہا تھا، اس دن میں نے ان سے کہا۔ “کیا تم آج میری بھیڑوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہو؟ میں شہر جا کر جوانوں کے ساتھ تفریح کرنا چاہتا ہوں” وہ مان گئے میں شہر پہنچ گیا .ایک گھر سے شور سنائی دیا .میں نے دریافت کیا .کسی شادی کے سلسلے میں تقریب تھی .اس جگہ داخل ہوتے ہی مجھے گہری نیند آگئی ۔ میں پروگرام ختم ہونے کے بعد صبح اٹھا۔ مجھے کوئی تفریح نہیں ملی۔ پھر میں واپس اپنے دوستوں کے پاس گیا، انہوں نے تفریح کے بارے میں پوچھا، میں نے ان کو سارا معاملہ بتایا ۔ اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ بھی پیش کیا۔ جس میں ایسی تفریح کے لیے جانا چاہتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عقائد اور رسوم و رواج میں بے مثال خیال رکھتے تھے۔ بہت سے معاملات سے یہ واضح ہے۔

16/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

#ٹویٹ 16/365
#اردو ترجمہ
طلوع اسلام سے قبل عرب مختلف مذاہب اور خود ساختہ اقدار کو سینے سے لگائے ہوئے تھے کہیں بت پرستی ہو رہی تھی اور کہیں آتش پرستی سے سکون قلب کا سامان مہیا کیا جارہا تھا کہیں سورج کی پرستش ہو رہی تھی اور کہیں انسان جسے اشرف المخلوقات کہا گیا ستاروں کے آگے سربسجود تھا خانہ کعبہ بت پرستی کا مرکز تھا جس کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے ہر قبیلے کا الگ بت تھا ہبل ، لات ، منات ، عزی ، نائلہ ، یعوق اور نسر مشہور بت تھے
توحید مکہ میں صرف چند لوگوں کے درمیان موجود تھی۔ بنی نوع انسان کے آغاز سے ہی مکہ میں صرف اللہ کی عبادت کی جاتی تھی۔ بت پرستی سب سے پہلے نبی نوح علیہ السلام کے معاشرے میں پیدا ہوئی۔ عرب میں عمرو بن لحی بت پرستی کا بانی تھا ۔ اہل مکہ، جنہیں انبیاء کا پیغام نہیں ملا تھا، اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت عیسیٰ و موسیٰ علیہما السلام کے پیروکاروں نے لوگوں کو بت پرستی کی پیروی نہ کرنے کی تلقین کی۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوانی ایسی غیر محفوظ قوم کے ساتھ گزری لیکن آپ نے کبھی شرک نہیں کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خالق کی طرف سے خاص حفاظت حاصل تھی۔ آپ نے نہ کسی بت کی پوجا کی اور نہ اس کے آگے سجدہ کیا۔ آئیے کچھ واقعات پڑھتے ہیں۔

1. حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ “کیا آپ نے کبھی بتوں کی پوجا کی ؟ آپ نے فرمایا نہیں، کبھی نشہ کیا؟ آپ نے فرمایا نہیں، پھر فرمایا میں جانتا تھا کہ وہ جس چیز کی پیروی کر رہے ہیں وہ کفر ہے۔

2. زید بن حارثہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم، فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا۔ “آپ فرماتے ہیں کہ میں اعلان نبوت سے پہلے ہی اس سے نفرت کرتا تھا”۔ اہل مکہ ان دنوں جب کعبہ کا طواف کرتے تھے تو عزی اور نائلہ کے بتوں کو چھوتے اور سجدہ کرتے تھے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا۔

3. رضاعی والدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش بوانہ نامی بت کی پوجا کرتے تھے۔ ہر سال اس کی موجودگی میں میلے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ قربانی کی جاتی تھی اور سر منڈوایا جاتا تھا۔ لوگ تہوار کی رات تک اپنا وقت مراقبہ میں گزارتے تھے ۔

ابو طالب اپنے گھر والوں کے ساتھ میلے میں شریک ہوتے تھے۔ اگرچہ ابو طالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی بار شرکت کی دعوت دی، لیکن آپ نے انکار کر دیا اور دور رہے۔ ابو طالب کو یہ پسند نہیں آیا۔ چچا نے کہا کہ تم اس تقریب سے کیوں دور رہتے ہو جس میں ہمارے سارے گھر والے اکٹھا ہوتے ہیں کیا تم ہمارے خدا کو رد کر رہے ہو؟ کیا آپ اس صورتحال میں دور رہتے ہو جہاں ہمیں اپنی طاقت دکھانے کی ضرورت ہے۔

نا چاہتے ہوئے بھی آپ نے سوچا کہ مجھے ان کے ساتھ باہر جانا ہی پڑے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف چلے جس طرف وہ چل رہے تھے۔ ام ایمن کہتی ہیں۔ ایک لمحے کے لیے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم غائب ہوگئے، پھر خوف سے کانپتے ہوئے ہمارے پاس آئے۔ آپ کی پھوپھی نے پوچھا کیا ہوا؟ آپ کہتے ہیں “مجھے کچھ غلط لگ رہا ہے ۔ ” وہ کہتی ہیں نہیں، تم کبھی کسی شیطان کے زیر تسلط نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ تم اس طرح برتاؤ کرتے ہو اور اپنی زندگی گزارتے ہو۔ اب بتاؤ کیا ہوا؟” آپ نے فرمایا “میں اس جگہ جانے لگا جہاں میلہ لگایا گیا تھا، اس سے پہلے کہ میں بت کے قریب پہنچتا وہاں ایک سفید پوش آدمی نمودار ہوا اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے ہٹو اور بت کے قریب مت جاؤ۔ اس کے بعد میں پھر کبھی ایسی تہوار والی جگہ نہیں گیا۔

4. سہاگ رات کے دوران، دولہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیاری بیوی خدیجہ سے کہا، میں کبھی لات اور عزی کے سامنے سجدہ یا اس کی عبادت نہیں کروں گا۔

اعلان نبوت سے پہلے ہی تقویٰ کی نشانیاں آپ میں ظاہر ہو چکی تھیں ایک نوجوان جس کا نام محمد ﷺ ہے جو اندھیرے کے درمیان سنہری روشنی کے ساتھ چل رہا تھا ۔ ہم سماجی مسائل میں ان کی مداخلت اور انصاف اور جرأت کے بارے میں مزید پڑھیں گے……..

17/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

#ٹویٹ 17/365
#اردو ترجمہ

ایک نوجوان جو معاشرتی مسائل سے جڑا ہوا ہو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھا جا سکتا تھا مکہ مکرمہ اور اس کے گردونواح میں نسلی فسادات ہوتے رہتے تھے ۔ اسے تاریخ میں ‘حرب الفجار’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پندرہ برس تھی۔ ایک طرف قریش اور کنانہ قبیلہ۔ دوسری طرف قیس و عیلان قبائل تھے جو ہوازن کے مقامی باشندے تھے۔ پہلی جماعت کے سردار حرب بن امیہ تھے۔ جنگ کی وجہ مکہ کے مشہور بازار عکاز میں ایک شخص کو پناہ دینے پر تنازعہ تھا۔ چار جنگیں ہوئیں۔ چوتھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا کے ساتھ میدان جنگ میں تشریف لے گئے۔ آپ نے براہ راست جنگ میں حصہ نہیں لیا۔بس بکھرے ہوئے تیروں کو جمع کرنے میں مدد کی۔ آپ نے درمیان میں کئی بار رکوع کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں یہ خیال ظاہر کیا کہ مجھے اپنی طرف سے تیر اندازی پسند نہیں تھی۔

لڑائی کے پہلے مرحلے میں، دوپہر سے پہلے ہوازن کو فتح حاصل ہوئی۔ دوپہر کو قریش جیت گئے۔ انصاف بھی قریش کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے باوجود قریش نے خود امن کے لیے پہل کی۔ وہ اس خونریزی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے تھے۔ فوج کا سربراہ عتبہ بن ربیعہ براہ راست آگے آیا دونوں جماعتوں نے کچھ وعدے کئے۔ منظر بالکل پرسکون تھا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بیس سال تھی۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ سماجی حقائق کا تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ لوگ آپ کی ہمت اور قابلیت کے قائل تھے۔

کچھ دن گزرنے کے بعد مکہ میں ایک معاہدہ ہوا۔ معاہدے کا نام ‘حلف الفضول’ ہے۔ اسے امن پسندوں کے ایک گروپ نے تیار کیا تھا۔ یہ مزید جنگ اور تشدد سے بچنے کے لیے تھا۔ مندرجہ ذیل واقعہ پیش آنے کی وجہ سے معاہدہ ہوا۔ واقعہ یوں ہے کہ قبیلہ زبید کا ایک شخص اپنا سامان لے کر مکہ آیا۔ عاص بن وائل جو مکہ کے رئیسوں میں سے تھا، اس نے سامان کی قیمت مقرر کر کے خرید لیا۔ لیکن چونکہ وہ ایک استحصالی تھا اس لیے اس نے قیمت ادا نہیں کی۔ اس نے اپنا غرور اور اثر دکھایا۔ پریشان تاجر نے مکہ کے بہت سے معززین سے شکایت کی۔ لیکن کوئی بھی عاص بن وائل سے حق واپس لینے کو تیار نہ تھا۔ وہ مکہ میں سرمایہ دارانہ استحصال کی علامت تھا

افسردہ تاجر نے حکمت عملی اپنائی۔ اگلی صبح سوداگر خانہ کعبہ کے قریب واقع پہاڑ “ابو قبیس” پر چڑھ گیا۔ اس نے مکہ میں اپنے برے تجربے کو نظم کی صورت میں سنایا۔ یہ وہ نظم تھی جس میں اس کا غم اور اس پر ایک باشندے کا تشدد شامل تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب مکہ کے تمام نامور لوگ عموماً خانہ کعبہ کے سائے میں جمع ہوتے تھے اور آپس میں گفتگو کرتے تھے، سب نے اس شعر کو سنا۔ یہ خبر کہ مکہ میں ایک غیر ملکی تاجر کو دھوکہ دیا گیا سب کے لیے رسوائی تھی۔ سردار زبیر اچھل پڑے زبیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر دوسروں کی توجہ مبذول کرائی کہ ‘اب اسے مت چھوڑنا’۔ مکہ مکرمہ کے تمام سرکردہ قبائلی رہنما مدعو تھے۔ عبداللہ بن جدعان کے گھر ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔

“متاثرین جو بھی ہوں، انہیں مکہ میں انصاف ملنا چاہیے، ہمیں انصاف کے لیے متحد ہونا چاہیے، ہمیں اس معاملے پر پختہ عہد کرنا چاہیے، یہ معاہدہ اس وقت تک ہونا چاہیے جب تک سمندر میں پانی کا ایک قطرہ باقی ہے۔” معاہدہ اس وقت تک قائم رہنا چاہیے جب تک حیرا و صابر کے پہاڑ نہیں ہلتے۔‘‘ زبیر نے کہا۔ تمام قبائلی رہنماؤں نے اتفاق کیا۔ کھانے کے بعد معاہدے پر دستخط کر دیے۔ ایک ایک کر کے وہ عاص بن وائل کے گھر پہنچے۔ تاجر کا تمام سامان واپس لے لیا۔ اس کے ساتھ ہی ‘حلف الفضول’ امن اتحاد عمل میں آیا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا کے ساتھ اس معاہدے کے مرکزی منتظم بنے۔ دنیا بھر میں انصاف قائم کرنے والا عظیم شخص اپنی جوانی میں امن کا منتظم بن جاتا ہے… (جاری ہے)

18/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 18/365
#اردو ترجمہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح کے بارے میں جوش و خروش سے بیان کرتے تھے۔ “جب میں چھوٹا تھا تو میں نے اپنے پھوپھی زاد بھائیوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ یہ میرے لیے سرخ اونٹوں کے ریوڑ سے بھی زیادہ قیمتی تھا۔” ایک اور روایت میں کہا گیا ہے کہ “میں نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں ایک معاہدے پر دستخط کرنے میں بھی حصہ لیا تھا، میں اس طرح کے معاہدے میں شرکت کروں گا، اگر مجھے اسلام میں رہتے ہوئے بھی مدعو کیا جائے۔

اس معاہدے کی وجہ سے مکہ میں بہت سے قابل ذکر واقعات عمل میں آئے۔ تشدد رک گیا۔ ہم اس طرح کا ایک واقعہ یہاں بیان کرتے ہیں۔ قبیلہ خزام کا ایک شخص اپنے اہل و عیال کے ساتھ مکہ آیا۔ وہ زیارت کعبہ کے لیے آئے تھے۔ گروہ میں شامل اس شخص کی خوبصورت بیٹی ‘القتول’ کو نبیح نامی حملہ آور نے اغوا کر لیا تھا۔ وہ شخص پوری طرح گھبرا گیا۔ کس سے شکایت کروں؟ ہاں، ” حلف الفضول” پر دستخط کرنے والوں سے شکایت کریں۔ ایک نے تبصرہ کیا۔ چنانچہ وہ کعبہ کے سامنے آیا اور معاہدہ کرنے والوں کو پکارا۔ آؤ بھائیو! میری مدد کرو! معاہدے سے متعلق لوگ دوڑتے ہوئے آئے۔ شکایت کنندہ کو مدد کی یقین دہانی کرائی گئی۔ وہ ایک گروہ میں مسلح ہو کر نبیح کے گھر اپنے قبیلے کے افراد کے ساتھ آئے۔ لڑکی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اسے “الفضول” کا معاہدہ یاد دلایا۔ مجبوراََ نبیح ایک شرط پر لڑکی کو چھوڑنے پر راضی ہو گیا۔ ‘اسے صرف ایک رات مجھے دے دو’۔ قائدین نے اتفاق نہیں کیا۔ وہ کہنے لگے. اونٹنی کو دودھ دینے کے وقت تک بھی اسے اپنی تحویل میں نہیں رکھ سکتے۔ آخر کار اس نے اسے چھوڑ دیا ۔

کم عمری میں ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب کے ثقافتی میدان میں انصاف کی روشنی ڈالنے کا موقع ملا۔ ہر واقعہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں ایک ممتاز شخصیت کا درجہ دیا۔ مکہ کے بہت سے لوگوں کے لیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھے جانے والا دن ایک اداس دن تھا۔ اس کے بغیر کھانا اچھا نہیں لگتا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رزق کے لیے دوسروں کے محتاج نہیں تھے۔ اس مقصد کے لیے وہ چرواہے کے کام میں بھی مصروف رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چوبیس برس کے ہو گئے۔ ابو طالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجارت کی دعوت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں ایک اچھی تاجر خدیجہ کے کاروبار کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ یہ سب کچھ تربیت تھی جس کا اہتمام اللہ تعالیٰ نے کیا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی سفر کا کچھ پس منظر بھی ہے۔ خدیجہ کی خادمہ ‘نفیسہ بنت منیہ’ اس کی وضاحت کرتی ہیں۔ ذوالحجۃ کے مہینے کی چودھویں تاریخ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر صرف پچیس سال تھی۔ مکہ والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو “الامین” کے نام سے پکارتے تھے۔ ابو طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ’’میرے پیارے بیٹے تمہیں ہمارے حالات کا علم ہے۔ ہم مالی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ تجارت یا آمدنی کے دیگر ذرائع مسدود ہیں۔ اب لوگ تجارت کے لیے شام جا رہے ہیں۔ خدیجہ، خویلد کی بیٹی، ہمارے خاندان کے بہت سے افراد کو اپنی تجارت کے لیے بھیجتی ہیں۔ برائے مہربانی خدیجہ سے رجوع کریں۔ وہ آپ کی درخواست کو رد نہیں کر سکتی۔ وہ مکہ میں آپ کی شہرت اور حیثیت سے بے خبر نہیں ہے درحقیقت مجھے آپ کو شام بھیجنے میں بہت زیادہ ذہنی دباؤ ہے۔ مجھے کسی بھی یہودی کی طرف سے دیکھے جانے اور خطرے میں ڈالے جانے کے بارے میں بھی اندیشہ ہے ۔ لیکن ہمارے پاس کوئی اور ذریعہ معاش نہیں ہے۔

خویلد کی بیٹی مکہ کی ایک معروف تاجر تھی۔ مکہ سے نکلنے والے قافلوں کے زیادہ تر اونٹ خدیجہ کے تھے۔ وہ نمائندے مقرر کرتی اور انہیں سامان کے ساتھ شام بھیجتی تھی اور بعض اوقات انعام مقرر کیا جاتا تھا، یا اس شرط پر بھیجا جاتا کہ منافع کے فیصد کے مطابق ادا کیا جائے گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا کی تجویز قبول فرمائی۔ لیکن جواب کچھ یوں تھا۔ “اگر خدیجہ کو میری ضرورت ہے تو وہ کسی کو بھیج دیں۔ میں بطور نمائندہ شام جاؤں گا۔ میرے پیارے بیٹے اگر وہ آپ کے وہاں پہنچنے سے پہلے کسی اور سے راضی ہو تو ہم کیا کریں گے؟ ہماری امیدوں پر پانی پھر جائے گا۔” ابو طالب نے جواب دیا۔ خدیجہ کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو خدیجہ نے ایک قاصد کے ذریعہ یہ پیغام بھیجا کہ انہیں امید نہیں تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قافلے کی قیادت کریں گے۔ اور انہوں نے آپ کو اپنے گھر پر مدعو کیا ۔

گفتگو شروع ہوئی۔ میں آپ کی وفاداری اور شخصیت کو جانتی ہوں۔ اگر آپ میرے قافلے کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہوں تو میں آپ کو کسی اور سے دوگنا ادا کر سکتی ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتفاق کیا۔ پھر ابو طالب کو اطلاع دی گئی۔ وہ بہت خوش تھے۔ انہوں نے کہا۔ یہ ایک سنہری موقع ہے جو آپ کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ ایک ذریعہ معاش جس کا اس نے بندوبست کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ کا سامان لے کر شام جانے کا فیصلہ کیا۔

19/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

#ٹویٹ 19/365
#اردو ترجمہ

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خادم میسرہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھیجا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے میسرہ کو کچھ ہدایات دیں۔ تجھے ان کی پوری اطاعت کرنی ہے۔ ان کے کہنے کے خلاف کچھ نہ بولنا۔ جی ہاں. میسرہ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا ۔

ابو طالب نے ضروری ہدایات دیں اور اپنے بیٹے کو قافلہ میں رخصت کیا۔ ابو طالب کے بھائی زبیر بھی قافلے میں تھے۔ زبیر کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص خیال رکھنے کا کام سونپا گیا۔ میسرہ نے احتیاط سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی۔ سفر کے آغاز سے ہی معجزے نظر آنے لگے۔ بادل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرکت کے ساتھ ساتھ حرکت کر رہے تھے۔

بعض مواقع پر دو فرشتے سورج سے الگ سایہ فراہم کرتے تھے۔ چنانچہ وہ شام کے شہر “بصرہ” پہنچے۔ وہاں آپ ایک درخت کے نیچے رکے اور وہیں آرام کیا۔ درخت کے پاس ایک پادری تھا جس کا نام نستورا تھا۔ میسرہ کی اس سے پہلے بھی شناسائی تھی۔ پادری محمد ﷺ کو دیکھ رہا تھا۔ پھر میسرہ سے پوچھا۔ ‘وہاں آرام کرنے والا شخص کون ہے؟ یہ قریش میں سے ہے۔ مکہ کے حرم میں رہتے ہیں۔ میسرہ نے جواب دیا۔ خیر، پادری کہنے لگا۔ “یہ بہت ممکن ہے کہ وہ شخص جو یہاں تک پہنچا ہے وہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔ ہمارے پیشرو نے ایسا ہی کہا ہے۔ کیا آپ نے اس کی آنکھوں میں سرخ رنگ دیکھا ہے؟ ہاں میں نے دیکھا ہے میسرہ نے جواب دیا، کیا یہ ہمیشہ رہتا ہے؟ ہاں، میں نے ایسا نہیں دیکھا کہ کبھی حرکت ہوئی ہو ، اس نے میسرہ سے بہت سی نشانیوں کے بارے میں پوچھا تو پادری نے کہا کہ یہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کاشکہ میں اس وقت زندہ ہوتا جب وہ اعلان نبوت کریں گے ۔

ایک اور روایت اس طرح ہے۔ نستورہ اس درخت کے نیچے پہنچنے سے پہلے ہی توجہ کر رہا تھا۔ اس نے بادل کی حرکت کا خاص طور پر مشاہدہ کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درخت کے نیچے آرام کرنے کے لیے تشریف لے گئے تو اس کو مزید تجسس ہوا۔ بعد میں اسے میسرہ سے اس معاملے کا علم ہوا۔ وہ حرم سے نکل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور پاؤں کو احترام سے چوما۔ پھر فرمایا کہ میں تم پر ایمان لاتا ہوں، میں پہچانتا ہوں کہ تم سچے نبی (ﷺ) ہو جن کا تورات میں ذکر ہے۔

پھر فرمایا کہ اے میرے محبوب مجھے آخری نبی کی ایک خصوصیت کے سوا سب معلوم ہو گیا ہے، مجھے اپنا کندھا دکھائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کندھا دکھایا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی مہر کو چمکتا ہوا دیکھا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا۔ اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سچ ہونے کی گواہی دی، پھر فرمایا کہ آپ وہ نبی ہیں جس کی پیشین گوئی عیسیٰ ابن مریم نے کی ہے۔ کہ کسی دن آپ اس درخت کے نیچے آرام کرو گے۔

میسرہ مختلف تجربات کا مشاہدہ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملک شام آیا۔ تجارت توقع سے بہتر تھی۔ تجارت کے دوران ایک اور قابل ذکر واقعہ پیش آیا۔ تجارت کے دوران سامان کے حوالے سے ایک گاہک سے اختلاف ہوا۔ اس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھا کر کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنتے ہی جواب دیا۔ “میں نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی اس کی قسم نہیں کھائی۔ اپنے ملک میں جب میں ان (بتوں) کو دیکھتا ہوں تو عام طور پر منہ پھیر لیتا ہوں۔ گاہک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں میں کچھ شان پا کر میسرہ کے پاس جا کر رازداری سے کہا: میسرہ!’ وہ آخری نبی یہی ہیں جن کا ہمارے ویدوں میں ذکر ہے۔

میسرہ نے تمام مناظر کو اپنے ذہن میں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احتیاط سے سفر کیا۔ یہ سیزن معمول سے زیادہ کامیاب رہا۔ میسرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ ہم اکثر خدیجہ کے سامان کی تجارت کے لیے آتے ہیں۔ یہ اتنا اچھا اور اتنا منافع بخش کبھی نہیں رہا۔

میسرہ کا دل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بے پناہ محبت سے لبریز تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اپنے آقا کے خادم کی طرح کرتا تھا۔ اس نے خاص طور پر مکہ واپسی پر سفر کرنے والے گروپ کو سایہ کرنے والے بادل کا مشاہدہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے آگے تشریف فرما تھے۔ میسرہ قافلے کے پیچھے سفر کر رہا تھا۔ درمیان میں میسرہ کے دو اونٹوں کو بیماری لگ گئی اور وہ چل بھی نہیں سکتے تھے۔ آخرکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو گروہ کے آگے سفر کر رہے تھے، اطلاع دی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے۔ آپ نے کچھ کہا اور آہستہ سے تھپکی دی۔ معجزانہ طور پر اونٹ اچھی صحت کے ساتھ قافلے کے سامنے پہنچ گئے۔

20/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 20/365
#اردو ترجمہ

قافلہ مکہ پہنچنے والا تھا۔ سفر کے دوران پیش آنے والے معجزاتی واقعات میسرہ کے دماغ میں محفوظ تھے۔ واقعات نے اسے پہلے ہی متاثر کیا ہوا تھا ۔ یہ قافلہ وادی عسفان سے گزر کر مراللہران یا وادی فاطمہ پہنچا۔ میسرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا

محترم الامین…. ذرا پہلے آپ خدیجہ( رضی اللہ عنہ) کے پاس جائیں۔ سفری تفصیلات سے باضابطہ آگاہ کریں۔ وہ بہت خوش ہو نگی۔ اس سے پہلے کہ معاہدے کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو اونٹ انعام کے طور پر ملنے تھے۔ میسرہ کی خواہش تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کردہ اجر سے زیادہ ملے۔ اس مقصد کے لیے اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ(رضی اللہ عنہ) سے ملنے کا مشورہ دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو قبول کر لیا۔ وہ خدیجہ(رضی اللہ عنہ) کے گھر کی طرف بڑھے ۔ دوپہر کے وقت خدیجہ(رضی اللہ عنہ) اپنی سہیلیوں کے ساتھ چھت پر بیٹھی تھیں۔ خدیجہ(رضی اللہ عنہ) کے سامنے ایک سرخ اونٹ نمودار ہوا جو تھوڑے فاصلے پر دکھ رہا تھا۔ یہ وہ اونٹ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آرہا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خوش و خرم تشریف لا رہے تھے۔ خدیجہ (رضی اللہ عنہ)نے ایک معجزہ دیکھا۔ بادل خاص طور پر الامین پر سایہ کرتا ہے۔ بادل ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ خدیجہ (رضی اللہ عنہ)نے تجسس سے دیکھا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ(رضی اللہ عنہ) کے گھر میں داخل ہوئے۔ تو شکریہ کے ساتھ آپ کا استقبال کیا ۔ کاروباری معاملات پر بات کرنے سے پہلے خدیجہ(رضی اللہ عنہ) کو ایک بات جاننی تھی۔ یہ اور کچھ نہیں تھا۔ بادل کا سایہ اور حرکت۔ اس کے لیے انہوں نے ایک حربہ استعمال کیا۔ میسرہ کہاں ہے؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ “وہ قریبی وادی میں پہنچ گیا ہے”۔ کیا آپ اسے جلدی آنے کو کہہ سکتے ہیں؟” خدیجہ (رضی اللہ عنہ)نے عرض کیا۔ یہ خیال اس وجہ سے تھا کہ وہ بادل کی نقل و حرکت کی تصدیق کرنا چاہتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر سوار ہوئے، خدیجہ(رضی اللہ عنہ) دوبارہ اپنے گھر کی چھت پر گئیں اور یہ منظر دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میسرہ واپس آگئے، خدیجہ (رضی اللہ عنہ)کو کاروباری معاملات کی بجائے الامین کے سفر کے بارے میں جاننے کی جلدی تھی، میسرہ ہزار زبانوں سے کہنے لگا۔ برکتیں، اعلیٰ کردار، معجزات وغیرہ

خدیجہ (رضی اللہ عنہ)نے بادل کا سفر سنایا جو انہوں نے دیکھا تھا۔ میسرہ اس نظارے سے آشنا ہو چکا تھا.. اس نے اس معجزے کا خاص ذکر کیا۔ اس نے نستورہ اور اس کی پیشین گوئی کا بھی ذکر کیا۔

تاریخ میں تہامہ کے ‘حبشہ’ بازار کے تجارتی سفر کا بھی ذکر ہے۔ (اس جگہ کو ‘جراش’ بھی کہا جاتا ہے۔) ہر تجارتی سفر کی اجرت ایک مادہ اونٹ سے ملتی تھی۔ یہ سب سن کر خدیجہ ( رضی اللہ عنہ) میں امید کی کرن پھوٹ پڑی۔ معمول کے برعکس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چار اونٹ پیش کیے۔

جو مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل کیا وہ خود استعمال نہیں کر تے تھے۔ اس سے چچا اور گھر والوں کی مدد کرتے تھے۔ یہاں کچھ اصول بھی شامل ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک موقع تھا کہ وہ ان نعمتوں کا بدلہ چکا دے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب سے ملی تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبلیغ اسلام کی راہ میں داخل ہوئے تو مکہ میں کوئی ایسا نہیں تھا جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض ہوں حتیٰ کہ سب سے زیادہ احسان کرنے والے ابو طالب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ مقروض ہو گئے۔ یہ سب وہ خوبیاں تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی برقرار رکھی تھیں۔ وہ تمام لوگ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے وہ آپ کے کردار کی بھی پیروی کرتے تھے ۔

عالم شباب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن کی منفرد صورت بن کر چمک رہے تھے۔ اب آپ کی عمر پچیس سال ہے۔ وہ عمر جس میں عموماً شادی ہوتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اس شخص کی خوبصورتی کو جان لیں جو دولہا بننے کی عمر میں ہے۔

21/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 21/365
#اردو ترجمہ

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن کماحقہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔ آپ کی خوبصورتی کیلئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ دنیا میں کسی اور کی خوبصورتی اتنی نہیں پڑھی جاتی۔ کسی اور کی خوبصورتی اتنی نہیں لکھی جاتی۔ آج بھی لاکھوں طلبہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کرتے ہیں اور تعلیمی نصاب کے حصے کے طور پر بڑی اہمیت کے ساتھ تجزیہ کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جسمانی خوبصورتی کا تعارف ان لوگوں کی طرف سے ایک غیر منقطع سلسلہ کے ذریعے کیا گیا ہے جنہوں نے آپ کا دیدار کیا اور آپ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا ۔ اور چودہا سو سال گزرنے کے بعد بھی جب سے آپ کو جسمانی طور پر سپرد خاک کیا گیا تھا، آپ کی دلکشی اور فضل پر تجسس سے بحث کی جاتی ہے۔ وہ منفرد خوبصورتی بغیر کسی مجسمے یا تصویر کے اربوں لوگوں کے دلوں میں چمکتی ہے۔

ایسی شخصیت کی خوبصورتی کو لفظوں میں کیسے بیان کروں..! ہم صرف مستند نصوص میں درج حوالوں کو پڑھ سکتے ہیں۔ آئیے صرف سرسری طور پر منفرد خوبصورتی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوئی ادیب یہ لکھنے کی جرات نہیں کرے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن ’’ایسا‘‘ تھا۔ آئیے صرف اسے پڑھیں۔

وہ ظاہری اور باطنی حسن کا پیکر تھے۔ خوبصورتی اور شان و شوکت جیسا کامل چہرہ۔ یہ صرف آپ کے لیے منفرد تھا۔ سرخی مائل سفید رنگ۔ اور جسم کی چمک سونے اور چاندی سے چمکی ہوئی ہے۔ آپ کے جسم کے بالوں والے حصوں سے روشنی نکل رہی تھی۔ آپ کی موجودگی گرد و پیش کو منور کر تی تھی۔قد نہ لمبا تھا نہ چھوٹا بلکہ میانہ تھا ۔ لیکن اگر کسی گروہ میں بیٹھیں تو سب سے زیادہ آپ ان کا سر دیکھ سکتے تھے۔ اگر وہ ایک گروہ میں چلتے ہیں تو ہم دیکھ سکتے تھے کہ باقی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھوٹے ہیں۔ عزت و وقار ہمیشہ نظر آتا تھا۔

جسم گوشت سے بھرا ہوا نہیں تھا۔لیکن آپ موٹا یا پتلا شخص نہیں کہہ سکتے۔ ٹھوس فطرت۔ لیکن پٹھے نہیں گھٹے اور نہ ہی جسم نے عمر دکھائی۔ نہ وقت اور نہ موسم نے جسم کی خوبصورتی کو کم کیا ہے۔ ہمیشہ کامل حسن میں رہے۔

پورے چاند کی طرح چہرے کا تاثر۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرنے والوں نے پورے چاند کی مثال دی۔ اس لیے کہ آپ کے چہرے کے رنگ اور تاثرات کو متعارف کرانے کی کوئی دوسری مثال نہیں تھی۔ چمکتی ہوئی پیشانی۔ گال جو روشنی ڈالتے ہیں۔’ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ایک مہینے کی چودھویں رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سرخ لباس میں تشریف لائے۔ میں نے وقفے وقفے سے پورے چاند کی طرف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھا۔ اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چاند سے زیادہ روشن تھا۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے سورج آپ کے چہرے پر گردش کرتا ہے۔ براء رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ تلوار جیسا تھا؟ انہوں نے جواب دیا، نہیں، یہ چاند کی طرح تھا۔ سورج کی طرح ناقابل برداشت یا شکل میں لمبا نہیں. اس کے بجائے ایک خاموش چمک تھی۔ یہ گول تھا۔ لیکن مکمل دائرہ نہیں۔ ایک کامل لمبائی اور گول شکل

آپ کے خیالات اور احساسات آپ کے چہرے سے پڑھے جا سکتے تھے۔ سنجیدہ خیالات آنے پر چہرہ سرخ ہو جاتا تھا۔ جب خوشی سے بھر جاتا تھا، تو یہ چمکتا تھا. دور سے نظر آنے پر وقار کی علامت۔ آپ کا اچانک ظہور دیکھنے والے کے دل کو عقیدت سے بھر دیتا تھا۔ جب آپ قریب ہوتے ہیں تو محبت چھلک جاتی ہے۔ جب آپ ساتھ رہتے ہیں تو محبت بڑھ جاتی ہے۔ حکم کے وقت چہرے پر فخر۔ ہدایات کے دوران نرمی. مذاق کے دوران مسکراہٹ۔ اللہ رب العزت کے بارے میں بات کرتے وقت مطلق عاجزی۔ ایک چہرہ جس میں تمام ضروری عناصر موجود ہیں۔

22/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 22
اردو ترجمہ

چشمان مبارک بڑی اور سیاہ تھیں اور ان میں سرخ ڈورے تھے ۔ چشم مبارک کی پتلی خوب سیاہ تھی ۔ابرو خمدار باریک اور گنجان تھے ۔ ابرو مبارک ملے ہوئے نہیں تھے دونوں کے درمیان ایک مبارک رگ تھی جو حالت غصّہ میں ابھر جاتی تب یہ خلا دوسروں کو نظر آ جاتا تھا۔ نظر زیادہ تر مشاہداتی تھی۔ نیچے دیکھ کر عاجزی کے ساتھ چلتے تھے۔ اگر کوئی ناپسندیدہ چیز نظر آئے تو شرمندگی سے آنکھیں ایک خاص طریقے سے بند ہوجاتی تھیں ۔ بعض مواقع پر آسمان کی طرف دیر تک آسمان کے عجائبات کے بارے میں سوچتے رہتے تھے ۔

ایک کشادہ پیشانی۔ مجلس میں بیٹھنے پر ایک خاص روشنی پھیلتی تھی۔ کبھی کبھی یہ چراغ کی طرح چمکتی تھی۔ نرم گالوں کی ہڈیاں۔ ہڈیوں کو نمایاں کرنے کے لیے گوشت جھکتا یا پتلا نہیں ہوتا۔ صحیفوں میں گالوں کی ہڈیوں کا ذکر ہے۔ پیچھے والے نماز سے سلام کہتے وقت ان گال کی ہڈیوں کو خاص طور پر دیکھتے تھے۔ گال کی ہڈیاں۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو پورے جسم کی خوبصورتی کی علامت تھیں ۔ جسم کے کسی حصے میں جھریاں یا سوجن نہیں تھی۔

دور سے یہ ایک لمبی ناک لگتی ہے۔ حقیقت میں ناک کی نوک پتلی اور چمکدار تھی۔ ناک کے بیچ میں ایک چھوٹا سا عروج اور روشنی عظمت کو ظاہر کرتی تھی۔ منہ تنگ نہیں تھا۔ یہ چوڑا تھا۔ منہ کی ساخت اور اظہار خوبصورتی اور تقریر کی فصاحت کا تعین کرتا تھا۔ لمبے ہونٹ۔ ، پھولوں سے بھرے تراشے ہوئے پودے کی یاد دلاتے تھے وہ حصہ جہاں ہونٹ آپس میں ملتے ہیں وہ نرم تھا۔ دانت جیسے سفید برف کے ٹکڑے۔ مسکراہٹ جو موتیوں کو ڈالتی ہے۔ دانتوں کے درمیان سے روشنی نکلتی ہے۔ سامنے والے دانتوں کے درمیان ایک ریشہ دار فاصلہ۔ کبھی کبھی وہاں سے اچھی روشنی پھیل جاتی تھی صحابہ کرام نے جب روشنی کو دیوار پر منعکس ہوتا دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ دانتوں سے ہے۔

آپ کی خاموشی کے لیے کیا فصاحت! یہ سوچنے والے تھے۔ کیا خوبصورت آواز ہے!. تقریر جو ہر حرف اور جملے کو واضح کرتی ہے۔ بڑے خیالات کم الفاظ میں بھرے ہوئے ہیں۔ اسے عربی میں ‘جوامع الکلم’ کہتے ہیں۔ سامعین ان کی گفتگو کو ایک بھی حرف یاد کیے بغیر سنتے تھے۔ پیروکار اسی طرح احتیاط سے بیٹھتے ہیں جیسے کوئی محتاط رہتا ہے کہ اس کے سر پر پرندہ اڑ نہ جائے۔ یہ مثال خود حدیث میں مذکور ہے۔

زیادہ بات نہیں کرتے تھے آپ کو ایسی گفتگو میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ آپ نے کبھی برا لفظ نہیں کہا ۔ کبھی کسی پر الزام نہیں لگایا۔ کبھی گالی گلوچ یا گالی گلوچ کا لفظ استعمال نہیں کیا ۔

سینہ اور پیٹ کا قد ایک جیسا تھا۔ پیٹ تھوڑا سا بھی نہیں نکلا۔ سینہ مبارک چوڑا تھا اور سینے سے ناف تک بالوں کا ایک باریک خط تھا ۔

23/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 23/365
اردو ترجمہ

سر اقدس اعتدال کے ساتھ بڑا تھا۔ ایک خصوصیت کی شکل جو ذہانت کی نشاندہی کرتی ہے۔ بال مبارک قدرے خم کھائے ہوئے تھے۔ سر کے بالوں میں بسہولت مانگ نکل آتی تو رہنے دیتے ورنہ مانگ نکالنے کا اہتمام نہیں فرماتے۔ جب کنگھی کی جاتی ہے تو یہ تہہ کرنے والی ریت کی طرح ہیں۔ آپ کے بال کان کی لو سے تجاوز نہیں کرتے لیکن کبھی کبھار کندھے تک پہنچ جاتے ۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا تھا۔ کبھی یہ ڈھیلے ہوتے اور کبھی کنگھی کی جاتی ۔ اگر ان بالوں پر تیل نہ بھی لگایا جائے تو یہ اتنا ہی خوبصورت ہوتے جیسے اسے تیل لگایا گیا ہے۔

داڑھی مبارک گنجان تھی۔ جب وہ سوچتے تھے تو داڑھی پر ہاتھ پھیرتے رہتے تھے۔ وضو کرتے وقت داڑھی کے بالوں کو انگلی ڈال کر دھوتے تھے ۔

ناخن اور بالوں کو وقفے وقفے سے کاٹتے اور صاف کیا کرتے تھے۔ عام طور پر چالیس دن کے اندر بال صاف کرلیا کرتے تھے۔ ایک ہفتے میں ناخن کاٹنے کا معمول تھا۔ ناخن کاٹتے وقت دائیں ہاتھ کے ناخن شہادت کی انگلی سے شروع ہو کر انگوٹھے پر ختم ہوتے تھے۔ بائیں ہاتھ کے ناخن چھوٹی انگلی سے انگوٹھے تک لگاتار کاٹتے جاتے تھے۔ بالوں کو صاف ستھرا کنگھی کیا کرتے تھے ۔اور متبادل دنوں میں تیل لگایا کرتے تھے

بدن مبارک بے مو تھا یعنی بدن پر بال نہیں تھے البتہ سینے سے ناف تک بالوں کی لکیر تھی۔ اس کے علاوہ سینے یا پیٹ پر کوئی بال نہیں تھا۔ بغل کے بال تھے۔ بغل ایک چمکدار سفید تھی چاہے بال ہوں یا نہ ہوں۔

مضبوط اعضاء۔ صحت مند عضلات۔ مضبوط ہڈیاں۔ بڑے اور مضبوط اعضاء۔ مضبوط اور چوڑی کہنیاں اور گھٹنے۔ چوڑے اندرونی بازو۔ ٹھوس اور مضبوط جسم کے حصے۔ ہتھیلیاں ریشم کی طرح نرم۔ بعد کے اصحاب نے بتایا کہ ہتھیلی کسی بھی ریشم سے زیادہ نرم تھی جسے انہوں نے کبھی چھوا تھا۔

مضبوط پاؤں. پاؤں کے بیرونی حصے پر کوئی تہہ یا جھریاں نہیں تھیں جو ڈالنے پر پانی بند ہو جائیں۔ ایڑیوں کا گوشت ہلکا تھا ۔ ٹخنوں سے کستوری کی خوشبو آتی تھی جب آگے چلتے تو گویا بلندی سے نیچے آتے ہیں۔ قدم تیز رکھتے ۔ لیکن پاؤں نہیں گھسیٹتے

وہ کسی بھی مضبوط آدمی کو شکست دینے کی طاقت رکھتے تھے بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ کو شکست دی، جو مقابلہ اور کشتی کے لیے تیار تھا رکانہ عرب دنیا کا معروف پہلوان تھا۔ حسن رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کے بارے میں فرمایا کہ حسن کا کمال ایسا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کے مطابق بنایا ہو۔

اس زمانے کی خواتین نے حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال کی طرف متوجہ ہو کر سیب کی بجائے اپنے ہاتھ کی انگلیاں کاٹ دیں جو وہ پکڑے ہوئے تھیں اگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن دیکھتیں تو انگلی کے بجائے دل کاٹ دیتیں

ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیاہ عمامہ پہنے ہوئے نظر آئے۔ بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ کیا یہ آپ کی سفید جلد ہے جو اس کی کالی پگڑی کے ہلکے پن کو نمایاں کرتی ہے یا یہ پگڑی کی شدید سیاہی ہے جو آپ کے حسن کو ظاہر کرتی ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامل حسن کا جوہر تھے اور اس کے عین مطابق تصورات رکھتے تھے۔

وہ آفاقی حسن جسے زبان اور تخیل سے گرفت میں نہیں لایا جا سکتا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ میں نے اس کی عکاسی کرنے کی کتنی ہی کوشش کی۔ میرے پاس قلم سمیٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

24/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 24
اردو ترجمہ

چلو واپس آتے ہیں۔ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورتی کے بارے میں پڑھا ۔ وہ تمام صفات جو کوئی بھی اپنی بیٹی کے لیے منتخب کر سکتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے پرکشش تھے جن کو دیکھ کر کوئی بھی عورت ان کی چاہت کر سکتی تھی اور ان سے محبت کر سکتی تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خوبصورتی کی وہ علامت ہیں جو دنیا کی خوبصورت ترین خاتون کے لیے تلاش کی جاتی ہیں۔

لیکن عالیشان گھر مخصوص مہم کے لیے تیار کیے جا رہے تھے۔ یہ کوئی دلکش منگنی نہیں تھی اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مرد ایک عورت کو چاہتا ہے۔

ایک ایسی شادی جو مکہ اور دنیا کو بدل دے گی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی وفادار نفیسہ بنت منیہ کو بلایا۔ اور آپ نے اس کے سامنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ نفیسہ کہتی ہیں کہ میں چپکے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی۔ میں نے پوچھا. آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے؟ آپ ایسا کیوں نہیں سوچتے؟ کیا رکاوٹ ہے؟ آپ نے فوراً کہا۔ میں نے شادی کے لیے کوئی پیسہ جمع نہیں کیا ہے۔

مال ودولت کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایک امیر اور عظیم خوبصورت عورت کے بارے میں سوچنا کیسا ہے؟ اگر ایسی کوئی درخواست آپ کے پاس آئے تو کیا کریں گے؟ کیا آپ اتفاق کر سکتے ہیں؟

آپ کا مطلب کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ میں نے ایک لفظ میں کہا، ‘خدیجہ’۔ اوہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔

کوئی مسئلہ نہیں، یہ آپ مجھ پر چھوڑ دو ۔ میں اس کو سنبھال لوں گی ۔

یہ جانتے ہوئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخواست کو رد نہیں کیا، نفیسہ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو آگاہ کیا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے باضابطہ طور پر اپنا قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور ابو طالب کو بھی اطلاع دی۔

ایک اور بیان درج ذیل ہے۔ نفیسہ کے ذریعے تجویز کے بعد،حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست بات کرنے کا موقع فراہم کیا۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ شادی کا ارادہ نہیں رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کس سے؟ میرے ساتھ. ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعجب سے فرمایا کہ تم قریش کی ایک اعلیٰ درجہ کی بیوہ ہو، میں قریش کے خاندان سے یتیم ہوں۔ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اگر یہ تجویز باضابطہ طور پر مجھ تک پہنچتی ہے تو میں اتفاق کرتی ہوں۔

اس طرح کی ایک اور روایت آئی ہے ۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ ’’یا ابن عمی! (اے میرے چچا زاد بھائی) ایسی خواہش کی وجہ آپ کی خاندانی حیثیت، کردار کی عظمت، دیانت داری اور معاشرے میں شہرت ہے۔

کیا آپ کل ہی اپنے رشتہ داروں کو میرے گھر بھیج دیں گے؟ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کو اس کی اطلاع دی۔ اگلے ہی دن وہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے آپ کا استقبال پورے احترام کے ساتھ کیا گیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں۔ او! ابو طالب، میرے چچا سے بات کرو، یہ تمہارا بھتیجا ہے کہ میری شادی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیں ۔ خدیجہ! تم کیا کہ رہی ہو ؟ .کیا آپ مذاق کررہی ہو؟حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا یہ سچ ہے۔ اللہ کی یہی مرضی ہے۔ پھر ابو طالب نے شادی کے ضروری انتظامات کیے ۔

منگنی کی تقریب ختم ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچیس سال دو ماہ پندرہ دن تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر اس وقت چالیس سال کی تھی۔ آئیے شادی سے متعلق مزید بیان کرنے سے پہلے دلہن کے بارے میں مزید پڑھیں

“اسد” قبیلہ قریش کے نسب کی ایک شاخ ہے۔ وہ اعلیٰ طبقے سے ہیں۔ قصی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پانچویں دادا ہیں۔ ان کا بیٹا اسد ہے ، عبد العزی کا بیٹا ۔ ان کے بیٹے خویلد خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد ۔ وہ عبدالمطلب کے بہترین دوست تھے۔ جب عبدالمطلب یمن کے اس وقت کے حکمران سیف بن ذی یزن کی مدح سرائی کرنے گئے تو خویلد بھی ان کے ساتھ تھے۔

خدیجہ رضی اللہ عنہا کی والدہ فاطمہ۔ سائدہ کی بیٹی لوئی کے نسب میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نویں دادا۔ فاطمہ کی والدہ ہالہ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد مناف کی بیٹی ہیں۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا خاندان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تیسرے دادا میں متحد ہے۔ ازواج مطہرات میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کا خاندانی تعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ ہے۔

25/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 25
اردو ترجمہ

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش اور پرورش ان کے دادا عبد العزی کے گھر ہوئی۔ یہ خانہ کعبہ کے صحن میں خانہ کعبہ سے صرف نو ہاتھ کے فاصلے پر تھا۔ صبح کے وقت خانہ کعبہ کا سایہ اس گھر پر پڑتا ہے اور شام کو اس گھر کا سایہ خانہ کعبہ پر پڑتا ہے۔ اس طرح وہ خانہ کعبہ کے سائے میں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھیں۔

خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی مکان اسی حالت میں تھا۔ اس گھر کے صحن میں ایک درخت کی شاخ اور دیگر چیزوں نے خانہ کعبہ کا طواف کرنے والوں کو مشکل میں ڈال دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کاٹ کر اس کے بدلے ایک گائے دی۔ اس جگہ کو مسجد میں شامل کر دیا گیا۔

جوانی کے بعد وہ خانہ کعبہ کے قرب و جوار میں ایک دوسرے گھر میں منتقل ہو گئیں۔ پہلی شادی ’’اجیاد‘‘ میں جبل خلہ کے گھر میں ہوئی۔ اس علاقے کو آج ترقی کے حصے کے طور پر مسمار کر دیا گیا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے وقت وہ مروہ کے قریب ایک مکان میں رہتی تھیں۔ سورت بن نباش کے بیٹے ہند نے خدیجہ سے پہلی شادی کی۔ وہ ‘ابو ہالہ’ کے نام سے مشہور تھے۔ وہ قبیلہ تمیم کا ایک ممتاز شخص تھا۔ اس نکاح سے دو بیٹے ہند اور ہالہ پیدا ہوئے لیکن ابو ہالہ کا انتقال کم عمری میں ہوا۔ خدیجہ کو وراثت میں کافی دولت ملی

وہ زیادہ دیر بیوہ نہیں رہیں۔ اگلی شادی ان کی عتیق نامی شخص کے ساتھ ہو گئی۔ جو مخزومی قبیلے کے عابد کا بیٹا تھا۔ لیکن یہ شادی زیادہ دن نہ چل سکی۔اور وہ ہند نامی بیٹی کے ساتھ چلی گئیں ۔

اس میں اختلاف ہے کہ نکاح میں ہند یا عتیق پہلے آئے

دو بار بیوہ اور تین بچوں کی ماں ہونے والی خاتون نے فوری طور پر دوسری شادی کا سوچا بھی نہیں۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شرافت، خوبصورتی اور مالی تحفظ کی وجہ سے کئی نامور لوگوں نے انہیں پیغام دیا۔ لیکن انہوں نے کوئی تجویز منظور نہیں کی جیسے وہ کسی کی منتظر ہوں۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا ان نایاب خواتین میں سے تھیں جنہوں نے دور جاہلیت میں بھی پاک دامن عورت کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ وہ صالحہ یا طاہرہ کے نام سے مشہور تھیں۔

ذہین خدیجہ نے اپنی دولت تجارت میں خرچ کی۔ رفتہ رفتہ وہ مکہ میں ایک ممتاز تاجر خاتون بن گئیں۔ انہیں “سیدۃ النساء قریش، ( قریش کی خواتین کی سردار) کا خطاب دیا گیا۔

خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بچوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کی۔ ہند نام بیٹے، بیٹی اور شوہر کا ہے۔ یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے۔ ہند، ہند کا بیٹا، سب سے بڑا بیٹا ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے ذریعے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی حاصل کی۔ اس نے پہلے مرحلے میں اسلام قبول کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی اور کردار کی خصوصیات بیان کرنے میں ہند آگے تھی۔ بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان سننے کے لیے ہند کے پاس آتے۔ وہ جنگ جمل میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہوا اور مارا گیا۔

بیٹے ہالہ نے بھی بعد میں اسلام قبول کیا اور مدینہ آیا۔ لیکن کوئی تفصیلی تاریخ دستیاب نہیں ہے۔

بیٹی ہند بھی خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رہتی تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے کزن سفیہ بن امیہ نے ہند سے شادی کی۔ اس نکاح میں ایک بیٹا تھا جس کا نام محمد تھا .وہ مدینہ میں بہت مشہور ہوا۔ یہ ان کی اولاد تھی جو بعد میں “بنو طاہرہ” یا خدیجہ کی اولاد کے نام سے مشہور ہوئے۔

خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دیگر دو بچوں کے بارے میں معلومات تاریخ میں واضح نہیں ہیں۔

26/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 26
اردو ترجمہ

ہم دولہا اور دلہن کا پس منظر پڑھتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک ایسی شادی کی خواہش کیوں رکھتے تھے ؟ تاریخ کچھ کہتی ہے۔ نیک، خوبصورت، ذہین اور امیر خدیجہ رضی اللہ عنہا کی کیا وجوہات تھیں؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سرداری، کردار کی پاکیزگی اور شہرت ان سب کے علاوہ گویا کچھ روحانی پیغامات موصول ہوئے۔ گویا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محل کے لیے بنائی گئی تھیں۔

اسی دوران ایک واقعہ پیش آیا۔ قریش کے جشن کے دن۔ مکہ کی تمام عورتیں خانہ کعبہ کے گرد جمع ہو گئیں۔ خواتین کے لیے مخصوص جگہ کا اہتمام تھا خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں۔ ہر کوئی تفریح میں مگن تھا۔ ایک یہودی عالم وہاں داخل ہوا۔ وہ حج کعبہ کے لئے مکہ آیا تھا اس نے عورتوں کے اسٹیج کی طرف اپنا سر پھیرا اور فرمایا: اے قریش کی عورتو! عنقریب تمہارے پاس خدا کا رسول آئے گا۔ تم میں سے کون اس پاک روح کا بستر بانٹے گا؟ خوش نصیب کون ہوگا؟ اگر آپ چاہیں تو اسے آزمائیں۔ یہ بات سن کر عورتیں ہنس پڑیں۔ ان میں سے کچھ نے یہودی عالم پر ریت پھینکی۔ ان میں سے بعض نے یہودی عالم پر لعنت بھیجی۔ لیکن خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ یہودی کی باتوں کے بارے میں سوچ رہی تھیں۔

کچھ دنوں کے بعد جب میسرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو انہیں اس حکیم کا قول یاد آگیا۔ شام کے سفر کے بعد موصول ہونے والی معلومات نے ان کی امید کو مضبوط کردیا تھا۔ مزید سوچنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ انہوں نے خود ہی معجزات دیکھے تھے۔

خدیجہ رضی اللہ عنہا چالیس سال تک صحن کعبہ میں رہ کر پروان چڑھیں۔ انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نشوونما کے ہر مرحلے کو جاننے کا موقع ملا۔ قحط سالی میں عبدالمطلب کی دعا کی قبولیت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہوئی۔ ان سب کی وجہ سے وہ تجربات کی دنیا میں رہتی تھیں۔

اسی طرح کی ایک روایت اور بھی ہے۔ میسرہ کے تجزیے اور وہ معجزات جو انہوں نے خود دیکھے تھے،ان سب نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ حقیقت جاننے کے لیے انہوں نے ورقہ بن نوفل سے رابطہ کیا۔ اس نے سب کچھ غور سے سنا اور پھر کہا اے خدیجہ اگر یہ سب سچ ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم موعود نبی ہیں۔ میں پہلے ہی جان چکا ہوں کہ فلاں نبی مبعوث ہونے والا ہے۔ اس نبی کی آمد کا وقت قریب ہے۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا اس وضاحت کو اچھی طرح سمجھ گئیں۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوش نصیبی اور زندگی کی خواہش کرتی تھیں۔

ورقہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تفصیلات بتاتے رہے، ورقہ اس موضوع پر اشعار لکھ کر خدیجہ کے پاس بھیجتے تھے۔ یہ اشعار تاریخی کتابوں میں درج ہیں۔

یہاں ایک اور دلچسپ روایت نقل کرتے ہیں۔ اسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ خدیجہ کی شادی کی تجویز ابو طالب کو موصول ہوئی۔ تو وہ فوراً مان گئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست بات چیت کے لیے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر بھیجا ۔ ابو طالب نے نباح کو بھی جو لونڈی تھی کچھ اور بات کرنے کے لیے بھیجا ۔

نباح بیان کرتی ہے۔ ہم خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ وہ دروازے پر آئیں اور ہمارا استقبال کیا۔ دوستانہ طور پر خدیجہ کہنے لگیں۔ میں اپنے والدین کو آپ کے لیے وقف کرتی ہوں: میرے پاس ایسے رشتے کے بارے میں سوچنے کی وجہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس امت کے لیے مبعوث کیے جانے والے نبی ہوں گے۔ اگر ایسا ہے تو کیا آپ مجھے اب بھی بیوی کے طور پر قبول کریں گے؟ کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کرو گے جو تمہیں نبی بنائے گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔ “اگر وہ شخص میں ہوں… ہم نے ایک معاہدے پر اتفاق کیا ہے جو کبھی نہیں ٹوٹے گا، اگر وہ شخص میں نہیں ہوں تو… وہ رب، جس پر آپ نے امید رکھی ہے، آپ کو مایوس نہیں کرے گا۔

27/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 27
اردو ترجمہ

اب آتے ہیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتخاب کیوں کیا جبکہ آپ دنیا کی کوئی بھی خوبصورتی حاصل کر سکتے تھے؟ بنیادی جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے خاص انتخاب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن اور جوانی خاص روحانی نظم و ضبط کے تحت گزری۔ شادی بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی نے بعد کی زندگی میں بہت مدد فراہم کی۔

یہ شادی ازدواجی زندگی کے حوالے سے ان تمام الزامات کا جواب ہے جو مخالفین کی طرف سے آخری دن تک لگائے جا سکتے تھے۔ پچیس سالہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سالہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک یہ رشتہ پچیس سال تک مکمل اطمینان کے ساتھ جاری رہا۔ حتیٰ کہ عرب معاشرے میں جہاں تعدد ازدواج کا رواج تھا، آپ نے دوسری شادی پر بھی غور نہیں کیا۔ ایک شخص جو اپنی زندگی کے پچیس سال اپنی بیوی کے ساتھ ایک لفظ بھی ناراضگی کے بغیر گزارتا ہے۔ ایسے شخص پر ضرورت سے زیادہ عورت پرستی کا الزام لگانے والے لوگ دنیا میں رہتے ہیں؟!..

مستشرقین کے یہاں پایا جانے والا ایک اور قصور تھا۔ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ان کے مال کی خواہش کی وجہ سے شادی کی۔ اس الزام کی کوئی تاریخی بنیاد نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں مالی خواہش ظاہر ہو۔ یہ سچ ہے کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال بھی تبلیغ دین کی راہ میں کام آیا۔ لیکن آپ نے خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کاروبار پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ محل اور تخت آپ کی دسترس میں تھے لیکن آپ جھونپڑی اور سادگی سے مطمئن تھے ۔ آپ نے اپنا سب کچھ ضرورت مندوں کو دیا اور سخاوت کے ذریعے حوصلہ افزائی کی۔ آپ نے ایک نوجوان کے طور پر سادہ چراگاہی کے کام کا انتخاب کیا۔ بعد میں چچا کے مشورے سے وہ کاروبار میں آئے۔ اس کے ذریعے جمع ہونے والی تمام دولت اپنے چچا کے خاندان کے آرام کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصوبے کے مطابق نہیں تھا۔ کوئی تاریخی ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے جو اس طرف اشارہ کرتا ہو۔ یہ مکمل طور پر خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ایک پہل تھی۔

دولت، جسم اور مفاد سب صرف مشن کے لیے استعمال ہوئے۔ چنانچہ اگر آپ تاریخ کو براہ راست پڑھیں تو آپ کو نبی کریم ﷺ میں ایک ایسا رہنما نظر آتا ہے جس نے تمام دنیاوی لذتوں کو ٹھکرا دیا تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس کنواری سے چاہتے شادی کر سکتے تھے، لیکن آپ نے ایک عمر رسیدہ عورت کو قبول کیا جو اس مشن کے لیے مفید تھی۔ پانچ بچوں کی 40 سالہ ماں جو دو بار بیوہ ہو چکی ہے، تاریخ اس فیصلے کو کس قدر روشن پڑھے!.

جنہوں نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ان کے پیسوں کے لئے شادی کی وہ کچھ حقائق بھول گئے جو انہوں نے خود ریکارڈ کیے تھے۔ وہ کچھ اور نہیں. بلکہ بیوی کی دوسری خوبیاں۔ ذہانت، خوبصورتی، کارکردگی، قبولیت، زندگی کے تجربات، فہرست جاری ہے۔

اب شادی کے دنوں کی طرف چلتے ہیں نکاح کے انتظامات کے حوالے سے بات چیت کرتے ہیں۔ ابو طالب نے سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ترتیب دیا۔ شادی دلہن کے گھر طے ہوتی ہے۔ اس طرح دونوں جماعتوں نے اتفاق کیا۔

28/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 28
اردو ترجمہ

ابو طالب نے تمام نامور لوگوں کو مدعو کیا۔ مکہ کے تقریباً دس نامور لوگ دولہا کے ساتھ دلہن کے گھر گئے۔ شادی کی جگہ کا خوب اہتمام کیا گیا تھا۔ وید کے عالم ورقہ بن نوفل مہمان خصوصی کے طور پر پہنچے ۔ سب سے پہلے نکاح کا خطبہ (خصوصی خطبہ) شروع ہوا۔ خطبہ ابو طالب نے دیا۔ خطبہ کا مواد حسب ذیل پڑھا جا سکتا ہے۔

‘تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اس نے ہمیں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کے بیٹوں میں شامل کیا ہے۔ ہم ‘معاذ’ کے نسب میں اور ‘مضر کی اصل میں سے ہیں۔ اللہ نے ہمیں اپنے گھر کے محافظ اور اپنے حرم کے محافظوں کے طور پر منتخب کیا۔ اس نے ہمیں ایک محفوظ مقدس شہر اور ایک مقدس مقام دیا جہاں زائرین آتے ہیں۔ ہم لوگوں کے درمیان جج مقرر کیے گئے ہیں۔

میرے بھائی عبداللہ کے بیٹے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر میدان میں ہر نوجوان سے بہتر شخصیت ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کا موازنہ کس سے کیا جائے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگے کھڑے ہوں گے۔ آپ چاہے کتنی ہی عظمت، قابلیت، ذہانت کو دیکھیں.. پھر کبھی کبھی دولت تھوڑی کم ہوتی ہے۔ کیا یہ ایک چلتا پھرتا سایہ نہیں ہے، اور قرض ہے جس کی ادائیگی کی ضرورت ہے؟! لیکن میں اعلان کرتا ہوں۔ میرے بھتیجے کے پاس ایک خوشخبری آنے والی ہے جو سب سے بڑھ کر ہے۔ اس کے پاس ایک اہم معاملہ آنے والا ہے۔

’’میرا بھتیجا تمہاری قابل فخر بیٹی خدیجہ سے شادی کر رہا ہے۔ جہیز ساڑھے بارہ تولہ سونا ہے۔

عمرو بن اسد ابو طالب کی بات کے فوراً بعد دلہن کی طرف سے اٹھے۔ وہ خدیجہ کے چچا تھے۔ اس نے ابوطالب کی بات کا جواب دیا۔ آپ نے جس نوجوان کا ذکر کیا ہے وہ منفرد شخصیت ہے اور اس درخواست کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ہم نے خدیجہ کا نکاح محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہے۔

پھر ورقہ بن نوفل نے بات شروع کی۔ ’’ہر چیز اللہ کی ہے۔ اللہ نے ہمیں وہ تمام مراعات دی ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہے۔ ہم عربوں کے رہنما اور سردار ہیں۔ آپ بھی اس کے مستحق ہیں۔ کوئی عرب آپ کی عظمت کی تعریف کرنے سے قاصر نہیں ہوگا۔ کوئی آپ کی عظمت اور جلال پر سوال نہیں کرے گا۔ ہم آپ کی عظمت اور خاندان کے ساتھ رشتہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اے قریش تم سب گواہ ہو: میں اعلان کرتا ہوں کہ محمد بن عبداللہ اور خدیجہ بنت خویلد کی شادی مذکورہ مہر (جہیز) سے ہوئی ہے۔

ابو طالب نے مداخلت کرتے ہوئے کہا۔ ٹھیک ہے، میں چاہتا ہوں کہ چچا بھی معاہدے کا اعلان کریں۔ عمرو بن اسد نے کہا اے قریش تم سب گواہ ہو کہ محمد بن عبداللہ اور خدیجہ بنت خویلد کا نکاح یہیں ہوا ہے۔

خدیجہ رضی اللہ عنہا کا دل و دماغ خوشی سے بھر گیا۔ انہیں سب سے بڑی خوش قسمتی ملی جو عورت کو زمین پر مل سکتی ہے۔ بیوہ پن کا غم یا یتیمی کی تھکاوٹ نہیں ہے۔ دلہن خوشی میں نئے دولہا کو لینے کے لیے تیار ہے۔ مکہ کے تمام باشندے اس جشن کا حصہ ہیں۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں نے دف بجائے۔ “قریش کی عورتوں کی سردار کو ایک دولہا ‘الامین’ ملا ہے، ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں، شاعروں نے مبارکبادی کے اشعار لکھے ، اشعار کے ٹکڑے بہت سوں نے سنائے ہیں۔ ایک سطر اس طرح نقل کی جا سکتی ہے۔

اے خدیجہ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لطف اندوز ہو، جو ستارہ فرقد کی طرح چمکتا ہے۔ ہچکچاہٹ نہ دکھائیں (مزے لینے میں

29/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ29
اردو ترجمہ

ابو طالب بہت خوش تھے کہ یہ شادی بہت مبارک تھی۔ انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور کہا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اس نے ہماری مشکلات کو دور کیا، اس نے ہماری پریشانیوں کو دور کیا۔

شادی کے لیے دلہن کے گھر پر شاندار دعوت تھی۔ گائے کو ذبح کرکے کھانا تیار کیا گیا۔ سہاگ رات کا کھانا (ولیمہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کیا تھا۔ دو اونٹوں کو ذبح کرکے دعوت تیار کی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی خدیجہ کو سب سے زیادہ مہر (شادی کی قیمت) دی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مہر کے طور پر بیس اونٹ دیے گئے۔ اس وضاحت کو دونوں آراء کو ملا کر بھی پڑھا جا سکتا ہے کہ مہر کا وعدہ ساڑھے بارہ تولہ سونا تھا لیکن آپ نے مہر کے مساوی قیمت کے بیس اونٹ دیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے ذریعے ایک بیوی سے زیادہ ایک سمجھدار ساتھی ملیں۔ یہ بظاہر یتیمی کے لئے سرپرستی تھی۔ ان میں باہمی محبت، احترام اور خیال تھا۔ پچیس سال کی ازدواجی زندگی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنواری بیوی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سمیت دوسری شادیاں بھی کیں ۔ اس کے باوجود آپ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے اپنی محبت اور اپنی پیاری بیوی خدیجہ کی یادوں کو اپنی زندگی کے آخر تک قائم رکھا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شادی کے بعد بھی کاروبار میں مشغول رہے۔ اس کو ثابت کرنے کے لیے کچھ واقعات ہیں۔ ایک واقعہ کچھ یوں ہے۔ امیہ بن ابی صالت مکہ کے ایک ممتاز شخص نے اپنے دوست ابو سفیان کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا۔ میں تجارتی سفر کے بعد یمن سے گھر واپس آیا۔ سب نے میرے پاس آکر مبارکباد دی۔ ہر ایک جس نے اپنا سامان مجھے سونپا اس نے منافع میں حصہ مانگا۔ اس گروہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی آئے۔ مبارکباد کی خواہش کی۔ میری صحت اور دیگر ذاتی معاملات کے بارے میں دریافت کیا۔ لیکن انہوں نے تجارتی منافع کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا۔ وہ میرے گھر سے اپنا منافع مانگے بغیر لوٹ گئے۔ میری بیوی ہند قریب تھی۔ کہتی تھی. کیا معجزہ ہے!. ہر کوئی اپنے نفع کی تلاش میں آیا۔ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی خیریت معلوم کرنے کے بعد واپس لوٹ گئے۔

ابو سفیان، جس نے امیہ کا قصہ سنا، کہا، “میرے بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ تجارتی تجربات ہیں، میں تجارتی سفر کے بعد خانہ کعبہ کا طواف کرنے آیا تھا۔ وہاں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی۔” میں نے کہا. بہت سے سامان تجارت تھے جو تم نے میرے حوالے کر دیئے۔ آپ کے سامان سے اچھا منافع حاصل ہوا۔ آپ کو مجھے منافع کا حصہ دینے کی ضرورت نہیں ہے جو میں ہر ایک سے جمع کرتا ہوں۔ فوراً انہوں نے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) نے جواب دیا “جو نفع کا حصہ سب سے اکٹھا کیا جائے وہ مجھ سے لیا جائے، تب ہی میں کسی کو منافع لینے کے لیے بھیجوں گا، میں نے اتفاق کیا، اس شخص کو بھیجا، اپنا حصہ لینے کے بعد میں نے اسے بھیج دیا۔

شادی کے بعد آپ نے خود کفالت کے ساتھ خاندانی زندگی گزاری۔ آپ نے دکھایا کہ اپنی زندگی کے ذریعے کاروباری معاملات میں انصاف کیسے قائم کیا جاتاہے۔ اپنی بیوی خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ زندگی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماحول کو بہتر کیا۔ آپ نے خوشگوار ازدواجی زندگی گزاری۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے خواب بیوہ کی دنیا سے اڑ گئے اور بڑے آسمانوں کی تلاش میں نکلے۔ وہ امید کے نئے کل کا انتظار کر رہی تھیں ۔ وہ اپنے پیارے شریکِ حیات کے تمام مفادات پر راضی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شوہر کے طور پر ملنے کے بعد خدیجہ رضی اللہ عنہا کی مکہ میں بہت عزت بڑھ گئی تھی ۔

تتلیاں نئے جوڑوں سے شہد پینے کے لیے آ گئیں۔ وقت نے خوبصورت پھولوں کا انتظار کیا۔

30/365 سیرتِ مصطفیٰ ﷺ

ٹویٹ 30
اردو ترجمہ

خوشگوار ازدواجی زندگی کی بہار میں پھول کھلنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری بیوی خدیجہ حاملہ ہو گئیں۔ دونوں کی خوشیاں دوبالا ہو گئیں۔ تاریخ کی غالب رائے کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر چھ بچے پیدا ہوئے۔ دو بیٹے اور چار بیٹیاں

آپ کے پہلے بیٹے کا نام القاسم رکھا گیا۔ پھر آپ کو ابوالقاسم ﷺ بھی کہا جاتا تھا۔ قاسم کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ دو سال کے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدائش کے وقت یتیمی اور چھ سال کی عمر میں اپنی والدہ کی وفات کے درد کو برداشت کیا۔ کم عمری میں اپنے بڑے بیٹے کی موت کا غم بھی انہیں برداشت کرنا پڑا۔ آپ نے اپنی زندگی میں دکھایا کہ اللہ کے بندے کو اپنے مالک کے فیصلے پر کیسے راضی ہونا چاہیے۔ آپ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تسلی دی۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ قاسم کی موت دو سال کی عمر میں نہیں بلکہ ان کی عمر اتنی تھی کہ اونٹ پر سوار ہو سکتے تھے ۔

مروجہ رائے یہ ہے کہ بیٹی زینب رضی اللہ عنہا کی پیدائش دوسرے نمبر پر ہوئی۔ ابن عبد البر نے بیان کیا ہے کہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تیس سال تھی۔ زینب رضی اللہ عنہا اپنے والدین کے ساتھ خوشی خوشی پرورش پائیں۔ جب وہ بڑی ہوئیں تو ان کی شادی ابو العاص بن ربیعہ سے ہوئی ۔ جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا کا بیٹا تھا۔ ان کا ایک بیٹا تھا جس کا نام علی اور ایک بیٹی تھی جس کا نام امامہ تھا۔ علی کا انتقال چھوٹی عمر میں ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد علی رضی اللہ عنہ نے امامہ سے شادی کی۔

حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے شروع ہی سے اسلام قبول کیا۔ لیکن ان کے شوہر ابوالعاص نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ زینب مدینہ چلی گئیں اور اپنے والد محترم سے جا ملیں۔ ابوالعاص جنگ بدر میں مسلم دشمنی کی طرف تھا۔ اسے جنگ کے دوران مسلمانوں نے پکڑ لیا۔ غلامی سے رہائی کے بعد حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو مدینہ جانے کی اجازت دی گئی۔ سال گزر گئے۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ رہے لیکن زیادہ دن نہیں رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آٹھویں ہجری میں وفات پائی۔(ابوالعاص کی تاریخ بعد میں آئے گی۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تینتیس سال تھی تو آپ کی تیسری اولاد رقیہ پیدا ہوئیں ۔ جب وہ بڑی ہوئیں تو ان کی شادی ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے ہوئی لیکن عتبہ نے سہاگ رات سے پہلے اسے طلاق دے دی۔ یہ اس نے اپنے والد ابو لہب کے اصرار پر کیا تھا۔ بعد میں ان کا نکاح عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ رقیہ رضی اللہ عنہا نے ابتدائی دنوں میں اسلام قبول کیا اور مدینہ ہجرت کر گئیں۔ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام عبداللہ تھا۔ رقیہ رضی اللہ عنہا اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اس وقت ان کی عمر بیس سال تھی۔ عتبہ، (جس نے سب سے پہلے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی) نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چوتھی اولاد کے طور پر ایک بیٹی ام کلثوم کی پیدائش ہوئی۔ ان کی شادی ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے ہوئی۔ اس نے سہاگ رات سے پہلے اسے طلاق دے دی۔ یہ اپنے والد کے دباؤ میں تھا۔ عتبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہت سے مسائل پیدا کیے اور بعد میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا

ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کی اہلیہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کے بعد ہوا۔ ہجری کے تیسرے سال ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ لیکن وہ زندگی زیادہ دیر نہ چل سکی۔ ہجری کے نویں سال شعبان میں ام کلثوم بھی اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر میری دس بیٹیاں ہوتیں تو میں انہیں یکے بعد دیگرے عثمان رضی اللہ عنہ سے نکاح میں دیتا۔

Leave a Reply